کائنات گذشتہ اندازے سے زیادہ قدیم نکلی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 00:42 GMT 05:42 PST

اس نقشے میں دھبے نظر آ رہے ہیں جو روشنی کے درجۂ حرارت میں فرق کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ نیلے رنگ کا مطلب سرد اور سرخ کا مطلب گرم ہے۔ سرد مقامات وہ ہیں جہاں مادے کی مقدار زیادہ تھی جو بعد میں کہکشائیں بن گئے

یورپی خلائی ادارے نے کائنات کی ’قدیم ترین روشنی‘ کا ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر پہلے لگائے گئے تخمینے سے زیادہ ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نقشہ کائنات کی ابتدا اور ارتقا کے بگ بینگ ماڈل کی نہایت عمدگی سے توثیق کرتا ہے۔

تاہم اس نقشے میں ایسے اجزا ہیں جو غیرمتوقع ہیں اور ان کی وجہ سے بعض تصورات کی نوک پلک درست کرنا پڑے گی۔

یہ نقشہ مصنوعی سیارے پر نصب پلانک نامی دوربین کے 15 ماہ سے جمع کردہ ڈیٹا کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دوربین 78 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی تھی۔

اس نقشے سے کازمِک مائیکرو ویو پس منظر یا کائناتی مائیکرو ویو بیک گراؤنڈ (سی بی ایم) کی تفصیل سامنے آتی ہے۔ سی بی ایم وہ مدھم سی مائیکرو ویو روشنی ہے جو کائنات کے ہر مقام سے آ رہی ہے۔

پلانک دوربین سے حاصل شدہ سی بی ایم کے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کی عمر 13 ارب 77 سال نہیں بلکہ 13 ارب 82 کروڑ سال ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کائنات میں موجود مادہ پہلے تخمینے سے تھوڑا سا زیادہ (37.7 فیصد) اور سیاہ توانائی تھوڑی سی کم (68.3 فیصد) ہے۔ سیاہ توانائی یا ڈارک انرجی وہ طاقت ہے جو کائنات کو زیادہ سے زیادہ رفتار سے پھیلا رہی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے جارج ایفسٹیتھیو نے پیرس میں یہ نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا، ’بہت سے لوگ سمجھیں گے کہ شاید یہ ماڈرن آرٹ کا نمونہ ہے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسے کئی ماہرینِ فلکیات ہوں گے جو اس نقشے کو حاصل کرنے کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتے۔‘

"بہت سے لوگ سمجھیں گے کہ شاید یہ ماڈرن آرٹ کا نمونہ ہے۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسے کئی ماہرینِ فلکیات ہوں گے جو اس نقشے کو حاصل کرنے کرنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتے۔"

کیمبرج یونیورسٹی کے جارج ایفسٹیتھیو

سی ایم بی وہ مدھم روشنی ہے جو اس وقت خلا کی وسعتوں میں پھیل گئی تھی جب کائنات معرضِ وجود میں آنے کے بعد اس حد تک ٹھنڈی ہو گئی تھی کہ ہائیڈروجن کے ایٹموں کو بننے کا موقع مل سکے۔ اس وقت کائنات کو تخلیق ہوئے تین لاکھ 80 ہزار سال گزرے تھے۔

یہ روشنی اب بھی کائنات کے تمام حصوں سے تقریباً یکساں مقدار میں زمین تک پہنچ رہی ہے اور اسے مائیکرو ویو فریکوئنسی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا درجۂ حرارت منفی 270.45 درجے سنٹی گریڈ ہے جو مطلق صفر سے صرف 2.7 درجے زیادہ ہے۔

البتہ خلا کے مختلف حصوں سے آنے والے اس سگنل کے اندر انتہائی معمولی فرق بھی ہوتا ہے، یہ فرق اس نقشے پر دھبوں کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ دھبے دراصل کائنات کے اندر موجود مادے کی کثافت میں فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دھبے دراصل وہ ’بیج‘ ہیں جنھوں نے بعد میں کہکشاؤں اور ستاروں کی شکل اختیار کر لی۔

پلانک سے وابستہ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اس دوربین کا ڈیٹا کائنات کی تخلیق کے نظریے ’سٹینڈرڈ ماڈل‘ کی توثیق کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق کائنات ابتدا میں بے انتہا گرم اور انتہائی مختصر جگہ پر محدود تھی، اور بعد میں پھیل کر ٹھنڈی ہو گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔