ٹی بی کےخاتمے کے لیے نئی کوششوں کی ضرورت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 مارچ 2013 ,‭ 15:05 GMT 20:05 PST

دنیا میں ہر سال، پندرہ لاکھ افراد کی موت ٹی بی کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں سے بیشتر ترقی پزیر ممالک کے لوگ ہوتے ہیں

تپِ دق کے ماہر ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے ایک عالمی گروپ کا کہنا ہے کہ ٹی بی جیسے مہلک مرض سے نمٹنے کے لیے پرانی حکمت عملی ناکام رہی ہے اور اس کے لیے ایک نئی بصیرت افروز فکر کی ضرورت ہے۔

دنیا کے کئي ممالک میں ٹی بی کے ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جن کا علاج مشکل ہے جس سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔

عالمی سطح کے سائنسدانوں اور ماہر ڈاکٹروں نے اس سلسلے میں جو نئے خیالات پیش کیے ہیں وہ ’لانسیٹ میڈیکل میگزین‘ میں شائع کیےگئے ہیں۔

ان ڈاکٹروں کے مطابق تپِ دق کے مرض کے حوالے سے حکومتوں کا رویہ لاپراوہی والا رہا ہے۔ ماہرین نے اس کے حل کے لیے حکومتوں پر مزید اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی جیسے مہلک مرض کے خطرناک کیسز سے بچنے کے لیے سیاسی اور سانٹیفکٹ سوچ میں ’اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور عالمی سطح پر اس کی روک تھام کے لیے بعض خاص طریقہ کار کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کے مطابق ’عالمی سطح پر معاشی بحران اور شعبہ صحت میں کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ٹی بی کے لیے قومی پروگرامز خطرے میں پڑگئے ہیں اور اس میں جو پیش رفت ہوئی تھی وہ بھی خطرے میں ہے۔‘

عالمی صحت ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ہر سال تقریباً نوے لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور تقریباً چودہ لاکھ اس مرض سے ہلاک ہوتے ہیں۔

"عالمی سطح پر معاشی بحران اور شعبہ صحت میں کم سرمایہ کاری کی وجہ سے ٹی بی کے لیے قومی پروگرامز خطرے میں پڑگئے ہیں اور اس میں جو پیش رفت ہوئی تھی وہ بھی خطرے میں ہے۔"

ماہرین کے مطابق بعض ممالک میں ٹی بی کے مریضوں کے لیے مناسب دوائیں دستیاب نہیں ہے اور جو دوائیں ہیں بھی وہ موثر نہیں ہوتیں۔ یوروپ اور بعض ایشائی ممالک میں تو یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے۔

اس سلسلے میں پروفیسر علیم الدین زملہ نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق’یہ لندن میں بھی بڑھتا ہوا بڑا مسئلہ ہے، یوروپ کا ایک بڑا مسئلہ اس وقت یہ مسئلہ ہمارے گھر میں ہے۔‘

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا حل فوجی طور پر نکل بھی نہیں سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی دوائیں اس کے لیے تیار کی گئی ہیں لیکن غریب ممالک میں ان کا مناسب استعمال ایک بڑا چيلنج ہے۔

پرفیسر زملہ کے مطابق یورپی ممالک غربت کو ختم کرکے یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں لیکن دوسرے ممالک ایسا ہونا آسان کام نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے ’تپِ دق کے مرض کو دوسرے کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔‘

ان کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی ٹی بی ہر گھر کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے لیکن حکومتیں اس حوالے سے شعبہ صحت میں پیسہ نہیں خرچ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔