بچوں کی بوریت، تخلیقی صلاحیت میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 08:12 GMT 13:12 PST

ایک ماہرِ تعلیم کے مطابق بچوں کو بوریت کا شکار ہونے دینا چاہیے تاکہ ان میں پیدائشی تخلیقی صلاحیت کی نشوونما ہو سکے۔

ڈاکٹر ٹریسا بیلٹن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام رواج یہ ہے کہ بچوں کو مسلسل متحرک رہنا چاہیے لیکن یہ بچوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہونے کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے مصنفہ میرا سیال اور فن کار گرسن پیری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح سے بوریت نے بچپن میں ان کی تخلیقی صلاصیتوں میں اضافہ کیا۔

سیال کا کہنا ہے کہ بوریت نے ان کو مصنفہ بنا دیا جبکہ پیری کے مطابق وہ ایک’تخلیقی کیفیت‘ تھی۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے سکول آف ایجوکیشن میں سینئیر محقق ڈاکٹر ٹریسا نے متعدد مصنفین، فنکاروں اور سائنسدانوں کے انٹرویوز کیے تاکہ ان کی زندگیوں میں بوریت کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے مصنفہ سیال کا ایک چھوٹے سے گاؤں میں گزرے بچپن کے بارے میں سنا جس میں کچھ اضطراب بھی تھا۔

ڈاکٹر بیلٹن کے مطابق’ کچھ کرنے کے لیے نہیں تھا تو اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ لوگوں سے بات چیت کریں اور نئی سرگرمیوں کے بارے میں سوچا اور دوسری صورت میں وہ ایسا نہیں کر سکتی تھیں۔‘

’بوریت کا تعلق اکیلے پن سے ہوتا ہے اور اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں گھنٹوں کھڑکی سے باہر کھیتوں،درختوں اور تبدیل ہوتے موسموں کو دیکھا۔‘

’لیکن اس میں اہم یہ ہے کہ بوریت نے ان انہیں مصنفہ بنا دیا ۔انہوں نے بچپن میں اپنے پاس ڈائری رکھنا شروع کر دی اور اس میں اپنے مشاہدے قلم بند کرنے شروع کیے، نظمیں لکھنا شروع کیں، کہانیاں، برائیوں کے بارے میں لکھنا شروع کیا اور بعد میں ان تمام چیزوں کو مصنفہ بننے سے منسوب کرتی ہیں۔‘

ڈاکٹر ٹرسیا نے اس کے ساتھ خبردار بھی کیا کہ تخلیقی ہونے کے عمل کا تعلق اندرونی تحریک سے بھی ہے۔

قدرتی ناگواری ایک خلاء پیدا کرتی ہے اور ہم اسے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ نوجوان جنہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اندرونی طور پر تخلیقی بوریت سے کیسے نمٹنا ہے تو وہ اس صورت میں بسوں کے شیشے توڑنا شروع کر دیتے ہیں یا گاڑی میں تفریح کے لیے باہر نکل جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹرسیا نے اس سے پہلے ٹیلی ویژن اور ویڈیو کے بچوں پر اثرات کا مطالعہ کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ’ جب بچوں کے پاس کچھ کرنے کو نہیں ہوتا تو فوری طور پر ٹی وی، کمپیوٹر آن کر لیتے ہیں کسی کو فون کر لیا یا سکرین پر دیکھنے سے متعلق کوئی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ان چیزوں پر صرف ہونے والے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

’بچوں کو رک کر وقت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا چاہیے، وقت کا تصور کرنا اور اپنے خیالات کے عمل کا تعاقب کرنا، یا اپنے تجربات کو کھیل یا اپنے ارد گرد کے مشاہدے سے یکساں کر سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔