متعدد مریضوں کو ’ایڈز، ہیپاٹائٹس کا خطرہ‘

Image caption تلسا کے صحت کے شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ہیرنگٹن نے اپنا لائسنس حکام کو واپس کر دیا ہے اور اپنا کلینک بند کرکے حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

امریکی ریاست اوکلاہوما میں شعبۂ صحت کے حکام نے سات ہزار مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے انھیں ڈینٹسٹ یا دانتوں کے ڈاکٹر نے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کے جراثیم سے آلودہ کر دیا ہو۔

شعبۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تلسا شہر میں ڈاکٹر ڈبلیو سکاٹ سے علاج کروانے والے مریضوں کو چاہیے کہ وہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے گئے کلینکس میں اپنے آپ کو ٹیسٹ کروانے کے لیے پیش کریں۔

شعبۂ صحت کے معائنہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس دانتوں کے ڈاکٹر کے کلینک پر زنگ آلود آلات دیکھے اور کلینک میں صفائی ستھرائی کے معیارات تسلی بخش نہیں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ہیرنگٹن نے رضاکارانہ طور پر اپنے کلینک کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست کے صحت کے شعبے نے مریضوں کو لکھا، ’ہمیں نہیں پتا کہ آپ کو ذاتی طور پر خون کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا وائرس لگا ہے یا نہیں مگر اس بات کا امکان ہے آپ کو اس بیمار کرنے والے مواد کا سامنا ہوا ہو۔‘

یہ خطوط ان تمام مریضوں کو بھجوائے گئے ہیں جنھوں نے اس کلینک میں 2007 کے بعد سے علاج کروایا ہے۔ تاہم صحت کے شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ اس سے قبل کس کس نے اس کلینک سے علاج کروایا ہے۔

تلسا کے محکمۂ صحت نے ایک کلینک قائم کیا ہے جو ان مریضوں کے مفت ٹیسٹ کرے گا۔

سابق مریض جوئیس بیلر کی عمر 69 برس ہے۔ انھوں نے ڈیڑھ سال قبل اپنے دانت ڈاکٹر ہیرنگٹن سے نکلوائے تھے اور ان کے مطابق ڈاکٹر کا کلینک صاف ستھرا لگ رہا تھا۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ’مجھے یقین ہے کہ ان پر کوئی مالی دباؤ نہیں تھا اور وہ اچھے آلات خرید سکتے تھے۔‘

اس کلینک کے بارے میں تحقیقات کا آغاز اس وقت کیا گیا جب ایک ایسے مریض کو ہیپا ٹائٹس اور ایچ آئی وی دونوں ہو گئے تھے جنھیں یہ بیماریاں ہونے کا خطرہ نہیں تھا۔

حکام نے اندازہ لگایا کہ مریض کے خون میں ان امراض کے وائرس داخل ہوئے انھوںن نے انھی دنوں اپنے دانتوں کا علاج کروایا تھا۔

تلسا کے صحت کے شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ہیرنگٹن نے اپنا لائسنس حکام کو واپس کر دیا ہے اور اپنا کلینک بند کر کے حکام کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہیرنگٹن کے کیس کی سماعت 19 اپریل کو ہوگی جس کے فیصلے کے نتیجے میں ان کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں