نئی موسیقی دماغ کے لیے سکون بخش

Image caption یہ تحقیق سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے

کینیڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق نئی موسیقی سننا دماغ کے لیے سکون بخش ہے۔

سائنس دانوں نے دماغ کے ایم آر آئی سکین کے ذریعے معلوم کیا کہ جب لوگ پہلی دفعہ کوئی گیت سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں موجود ’انعام مرکز‘ فعال ہو جاتا ہے۔

سامع گیت سے جتنا زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے، اس کے دماغ کے نیوکلیئس اکمبنز نامی حصے میں کنکشن اتنے ہی مضبوط تر ہوتے جاتے ہیں۔

یہ تحقیق سائنس نامی جریدے میں شائع ہو چکی ہے۔

ٹورنٹو میں راٹمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر ویلری سلیم پور نے بی بی سی کو بتایا، ’ہمیں اندازہ ہے کہ نیوکلیئس اکمبنز موسیقی سے متحرک ہوتا ہے۔ لیکن موسیقی تجریدی ہے۔ یہ اس طرح کی چیز نہیں کہ آپ کو بھوک لگی ہے اور آپ پرجوش ہوں کہ آپ کو جلد کھانا ملنے والا ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’اس کا اطلاق سیکس اور دولت پر بھی ہوتا ہے جس میں عام طور پر نیوکلئس اکمبنز سرگرم ہوتا ہے۔لیکن سب سے دلچسپ بات ہے کہ آپ آواز جیسی مکمل تجریدی چیز کی توقع سے بھی پُرجوش ہو جاتے ہیں۔‘

اس تحقیق کے لیے میک گل یونیورسٹی کے مونٹریال نیورولاجیکل سنٹر میں سائنس دانوں نے 19 رضاکاروں کو ان کی پسند کے مطابق موسیقی کے 60 حصے سنوائے۔

30سیکنڈ لمبے ٹریک سننے کے دوران سامعین کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنی پسند کی موسیقی ایک فرضی آن لائن سٹور سے خرید سکتے تھے۔

اور یہ سب کچھ اس دوران ہوا جب اس تحقیق کے رضاکار ایم آر آئی مشین میں لیٹے ہوئے تھے۔

آیم آر آئی سکین کے تحزیے سے سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ نیوکلیئس اکمبنز ’حرکت میں آجاتا ہے‘ اور اس کی فعالیت کی بنیاد پر محققین کو اس بات کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آیا کوئی رضا کار اپنا پسندیدہ گانا خریدے گا یا نہیں۔

ڈاکٹر ویلری سلیم پور نے کہا، ’موسیقی سننے کے دوران ہم ان کے دماغ کی فعالیت کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کے کہے بغیر اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ موسیقی سے کس حد تک لطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’یہ نیور سائنس کا نیا شعبہ ہے جس میں دماغ کی فعالیت کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے ان کے خیالات، جذبات اور رویے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔‘

تحقیق میں اس بات کا بھی پتا چلا کہ نیوکلیئس اکمبنز دماغ میں ایک دوسرے حصے یعنی سمعی کورٹیکل سٹور کے ساتھ بھی رابطے میں رہتا ہے۔یہ وہ حصہ ہے جس میں پہلے سے سنی گئی موسیقی کی معلومات جمع ہوتی ہیں۔

اب محققین یہ معلوم کرنے کی کوشش میں ہیں کہ اس کا ہمارے موسیقی کے ذوق پر کتنا اثر ہوتا ہے اور کیا دماغ کی فعالیت اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ لوگ مختلف قسم کی موسیقی کی طرف کیوں راغب ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں