منی ڈرون خطرناک ہیں: ایرک شمٹ

Image caption بھارتی ریاست آسام میں غیرقانونی شکار پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی متعارف کی گئی ہے

گوگل کے سربراہ ایرک شمٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ شہری استعمال کی ڈرون ٹیکنالوجی پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے لوگوں کی خلوت اور تحفظ میں خلل پیدا ہو جائے گا۔

انھوں نے برطانوی اخبار گارڈیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بلاہوباز اڑنے والے جہازوں کے چھوٹے نمونے غلط ہاتھوں میں پڑ سکتے ہیں۔

انھوں نے ایک مثال دی کہ جھگڑالو ہمسائے ایک دوسرے پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کرنے والے ڈرون استعمال کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے دہشت گرد بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شمٹ کے امریکی صدر براک اوباما سے قریبی تعلقات ہیں۔ وہ اوباما کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور پر مشاورت بھی دیتے ہیں۔

انھوں نے گارڈیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’آپ کا اپنے پڑوسی سے کوئی تنازع ہے۔ اگر وہ جا کر جاسوسی والا ڈورن لے آئے اور اسے اپنے گھر کے پچھواڑے سے اڑا دے جہاں سے وہ سارا دن آپ کے گھر کے اوپر منڈلاتا رہے، تو آپ کو کیسا لگے گا؟‘

انھوں نے منی ڈرون کو دہشت گردوں کا ہتھیار بننے کے خطرے سے بھی آگاہ گیا: ’میں اس بات پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہتا کہ فوجیں ہونی چاہیئیں یا نہیں، لیکن میں لڑنے کی صلاحیت کو تمام لوگوں تک پہنچانے کے حق میں نہیں ہوں۔

حکومتوں کی بات دوسری ہے کہ ان کے پاس جنگ کا کوئی قانونی جواز ہوتا ہے، لیکن لوگوں کو اس بات کی اجازت دے دینا؟ یہ ٹھیک نہیں۔‘

چھوٹے ڈرون پہلے ہی دنیا بھر میں دستیاب ہیں۔ حال ہی میں بھارتی ریاست آسام میں غیرقانونی شکار کھیلنے والوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون متعارف کروائے گئے ہیں۔

حالیہ برسوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ڈرون کو نگرانی اور بطور ہتھیار کے لیے استعمال کیا ہے۔

امریکہ کا ہوابازی کا ادارہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ بلاہواباز کے ڈرون کو کس طرح سے امریکی فضا میں محفوظ طریقے سے متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں