’لیبارٹری میں تیار کیا گیا گردہ کام کر رہا ہے‘

Image caption اگر لیبارٹری میں تیار کیےگئے گردے کامیاب رہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی

امریکہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیبارٹری میں تیار کیےگئے ایک مصنوعی گردے کی جانور میں پیوند کاری کی گئی ہے اور یہ گردہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے یعنی اس سے پیشاب کا اخراج ہو رہا ہے۔

لیبارٹری میں مختلف انسانی اعضاء مصنوعی طور پر پہلے سے ہی تیار کیے جاتے رہے ہیں اور مریضوں میں لگائے بھی جاتے رہے ہیں لیکن اس ضمن میں گردے کی تیاری اب تک کا سب سے پیچیدہ عمل رہا ہے۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے جنرل ہسپتال کے سائنس دانوں نے اس طرح کا مصنوعی گردہ تیار کرنے کی سمت کامیاب پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے اس کے لیے ایک چوہے کا گردہ لیا اور اس کے پرانے خلیوں کو صابن سے صاف کیا اور گردے کا جو ہڈی نما حصہ بچا اسے دوسرے خلیوں کی مدد سے از سر نو گردہ میں تبدیل کرکے دوسرے چوہے میں لگایا گيا۔

انسانوں پر اس طرح کے تجربہ کرنے کے لیے ابھی کافی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن ماہرین کے نزدیک اگر یہ تکنیک کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ بڑی کامیابی ہوگي۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کے ڈاکٹر مارٹن برشل پیوند کاری کے ماہر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ہی دلچسپ اور انتہائی متاثر کن ہے‘۔

نیچر میڈیسنی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لیبارٹری میں تیار کی گئی کڈنی قدرتی گردے کے مقابلے کم مؤثر ہوتی ہے۔

لیکن اس پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جسم میں گردہ فضلات سے خون کو چھاننے اور فاضل پانی کو باہر نکالنے کا کام کرتا ہے۔

اس وقت گردہ خراب ہونے کے معاملے عام ہیں اور اس کی پیوند کاری کی بھاری مانگ رہتی ہے اور بیشتر مریض گردے کے منتظر رہتے ہیں۔

محقیقین کا خیال ہے کہ پرانے ناکام گردے کے تمام خلیوں کو پوری طرح سے صاف کر کے اگر اسے مریض کے خلیوں سے دوبارہ تیار کیا جائے تو وہ گردہ زیادہ کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔

اس سے گردہ مریض کے خلیوں سے پوری طرح میچ کرایا جائیگا اور اس سے مریض کے گردے کے کام کرتے رہنے کے لیے زندگی بھر دوا نہیں کھانی پڑیگی۔

اگر یہ تجربہ کامیاب رہا توگردے کا حصول بھی آ‎سانی ممکن ہوسکے گا کیونکہ ابھی تک گردے کی تبدیلی کے لیے کسی دوسرے شخص سے گردہ لینا پڑتا ہے اور مناسب گردہ نہ ملنے کی صورت میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں