کوڑا کرکٹ خلائی سفر کے لیے بے حد خطرناک

Image caption خلائی کوڑا صاف کرنے کے لیے کئی تصورات پر کام کیا جا رہا ہے۔

ایک بڑے بین الاقوامی اجلاس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب جب خلا کوڑے سے اس قدر بھر جائے گی کہ وہاں سفر انتہائی خطرناک ہو جائے گا۔

اجلاس نے کہا ہے کہ اس کوڑے کو خلا سے نکالنے کی ’فوری ضرورت‘ ہے۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس وقت خلا میں انسانوں کا پیدا کردہ 30 ہزار سے زائد ایسا فالتو مواد موجود ہے جن کا سائز دس سنٹی میٹر (چار انچ) سے زیادہ ہے۔

ان میں سے بعض مصنوعی سیاروں کے حصے ہیں، جب کہ بہت سے ساز و سامان کے ٹکڑے ہیں۔ یہ مواد ایندھن کے ٹینکوں اور بیٹریوں میں دھماکوں اور اشیا کے تصادم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔

دس سنٹی میٹر تک کے مواد کا ریڈار کی مدد سے پتا چلایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے چھوٹے لاکھوں ان دیکھے ٹکڑے بھی موجود ہیں۔

اس مواد کے آپس میں ٹکرانے کی بڑھتی ہوئی شرح سے ماہرین کو تشویش لاحق ہو گئی ہے۔

یورپی خلائی ادارے کے پروفیسر ہائنر کلنکرڈ کہتے ہیں، ’خلائی کوڑے پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مدار میں موجود حالیہ صورتِ حال چند عشروں کے اندر اندر غیرمستحکم ہو جائے گی۔ ہر سال پانچ سے دس چیزوں کو ہٹانے ہی سے کوڑا بڑھنے کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔‘

پروفیسر کلنکرڈ جرمنی میں خلائی کوڑے کے بارے میں ہونے والی چھٹی یورپی کانفرنس کے چیئرمین ہیں۔

اس کانفرنس میں زمین کے نچلے مدار میں مستقبل میں کوڑا بڑھتا چلا جائے گا۔ یہ مدار تصویریں لینے والے مصنوعی سیارے استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں معیاری ضابطۂ کار پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ان اصولوں میں خلا میں پروازیں بھیجنے والے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے آلات کوئی مہم ختم ہونے کے 25 سال کے اندر اندر زمین پر گر جائیں۔

لیکن ان اصولوں پر عمل درآمد کویقینی بنانا مشکل ہے۔ پینل کا کہنا ہے کہ ایجنڈا پر سب سے ہنگامی اقدام کوڑے ہٹانا ہے۔

تاہم فرانسیسی خلائی ادارے کے کرسٹوف بونال کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہونے سے پہلے کتنا عرصہ باقی ہے۔

خلا سے کوڑا صاف کرنے کے لیے خصوصی خلائی جہاز بھیجنا پڑے گا جو بیکار مصنوعی سیاروں کو وہاں سے نکال سکے۔

جرمنی میں ہونے والی کانفرنس میں اس مقصد کے لیے کئی تصورات پیش کیے گئے، جن میں جالوں، ہارپون، لیزر اور دوسرے آلات کے استعمال کا جائزہ لیا گیا تھا۔

کانفرنس کے سمری پینل نے میڈیا کو بتایا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ان ٹیکنالوجیوں کو بروئے کار لانے کے لیے پہلے پائلٹ پروگرام شروع کیے جائیں۔

ان میں سے بعض پروگرام پہلے ہی منطور کیے جا چکے ہیں۔ جرمن خلائی ادارہ ایک پروگرام پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ایک روبوٹ خلا میں گردش کرتے اجسام کو قابو کرتا جائے گا۔

ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو قانونی مسائل سے بھی نمٹنا پڑے گا جو خلا کی صفائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

فی الحال بین الاقوامی قانون صرف اسی ملک کو کوڑا ہٹانے کی اجازت دیتا ہے جسے اس نے خلا میں بھیجا ہو۔ اس طرح تجارتی بنیادوں کوڑا ہٹانے والی کسی کمپنی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔

زمین کے مدار میں تیرتے ہوئی بعض چیزیں کئی ٹن وزنی ہیں۔ اس لیے انھیں محفوظ طریقے سے ہٹانا آسان نہیں ہے۔

اسی بارے میں