’ایمبریانک سٹیم سیل سے طبی مقاصد کے لیے کلوننگ‘

امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کلوننگ کے ذریعے ابتدائی ایمبریو پیدا کیا ہے جو کہ علاج کے شعبے میں ایک بہت بڑا قدم ہے۔

یہ کلون کیے گئے ایمبریو سٹیم سیل کے لیے ایک بنیاد کے طور پر استعمال کیے گئے تھے جس کی مدد سے دل کے پٹھے، ہڈیاں، دماغ کے ٹشو اور انسانی جسم میں کسی بھی قسم کےسیل بنائے جا سکتے ہیں۔

یہ دعویٰ ایک تحقیق میں کیا گیا ہے جو ایک جریدے ’سیل‘ میں شائع کی گئی اور اس کلوننگ میں وہی طریقہ استعمال کیا گیا جو برطانوی کلون شدہ بھیڑ ڈولی کے بنانے میں استعمال ہوا تھا۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ سٹیم سیل کے دوسرے زرائع کافی آسان اور سستے ہوں گے اور کم متنازعہ بھی ہوں گے۔

اس تحقیق کے مخالف کہتے ہیں کہ انسانی ایمبریوز پر تجربات کرنا غیر اخلاقی ہے اور اس عمل پر پابندی عائد کی جائے۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سٹیم سیل ادویات کے شعبے کے لیے امید کی ایک بڑی کرن ہیں اور اس کی مدد سے دل کے دورے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے اور زخموں کو مندمل کیا جاسکتا ہے اور حرام مغز میں خرابی کو دور کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

ایسے تجربات پہلے ہی کیے جا رہے ہیں جن میں سٹیم سیل جو کہ عطیہ کیے گئے ایمبریو سے حاصل کیے جاتے ہیں کی مدد سے لوگوں کی سماعت بحال کرنے کا کام کیا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ عطیہ کیے گئے سیل مریض کے جسم کا حصہ نہ بن پائیں تو مریض کا جسم انہیں رد کر سکتا ہے مگر کلوننگ اس مسئلے کو بائی پاس کر دیتی ہے۔

ان تجربات میں جو تکنیک استعمال کی گئی ہے اسے ’سومیٹک سیل نیوکلئر ٹرانسفر‘ کہا جاتا ہے یعنی ایسا عمل جس میں سیل کے نیوکلیائی کو منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ڈولی بھیڑ کے بعد سے مقبول ہے جسے 1996 میں کلون کیا گیا تھا۔

ایک بالغ کی جلد کے سیل لیے گئے جس کی جنیٹک معلومات ایک عطیہ کیے گئے بیضے میں رکھی گئیں جس سے ڈی این اے نکال دیا گیا تھا۔ ان بیضوں کو بجلی کے استعمال سے اس عمل پر مائل کیا گیا کہ وہ ایک ایمبریو میں منتقل ہو کر تبدیل ہوں۔

اگرچہ محققین کو اس عمل کے انسانوں کے معاملے میں دہرانے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بیضہ تقسیم تو ہونا شروع ہوتا ہے مگر چھ سے بارہ سیل کی سطح سے آگے نہیں جاتا۔

ایک جنوبی کوریائی سائنسدان ہوانگ وو سک نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک کلون شدہ انسانی ایمبریو سے سٹیم سیل بنایا تھا مگر بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے اس بات کے ثبوت میں جعل سازی سے کام لیا تھا۔

اب امریکہ میں اوریگون ہیلتھ اور سائنس یونیورسٹی میں ایک ٹیم نے ایک ایمبریو کو ’بلاسٹوسسٹ‘ کی سطح تک بنایا ہے جو کہ 150 سیل تک ہے اور ایمبریونک سٹیم سیل بنانے کے لیے بنیاد فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

ڈاکٹر شوخرات میتالیپوو کا کہنا ہے کہ ’اس تکنیک کے زریعے سے بنائے گئے سٹیم سیلز کے ایک تفصیلی جائزے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک عام ایمبریانک سٹیم سیل میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر دوسری کئی اقسام کے سیل میں جن میں اعصابی سیل، گردوں کے سیل اور دل کے سیل بھی شامل ہیں۔‘

’اگرچہ اُس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت سا کام باقی ہے جب ایک محفوظ اور موثر سٹیم سیل کا علاج بنایا جا سکے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہت اہم اور نمایاں قدم ہے اس سطح تک پہنچنے تک جب ایسے سیل بنائے جا سکیں جن سے بازافزائش کے لیے سیل بنائے جا سکیں۔‘

کرس میسن جو یونیورسٹی کالج لندن میں باز افزائش کے شعبے کے پروفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ حقیقی لگتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ایسے ہی ہے جیسے رائٹ براداران نے کیا تھا جنہوں نے آس پاس دیکھا کہ کون کون سے بہترین اجزا کہاں کہاں موجود ہیں اور پھر ان کو مختلف حصوں میں اکھٹا کر دیا۔‘

’رائٹ برادران نے پرواز بھری اور یہ بھھی حقیقتاً ایمبریونک سیلز بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے‘۔

ایمبریونک سٹیم سیل تحقیق نے بارہا اخلاقی بحثوں اور سوالات کو جنم دیا ہے اور انسانی بیضے ایک بہت ہی کمیاب زریعہ ہیں۔ اسی وجہ سے محققین کو سٹیم سیل کے لیے دوسرے زرائع کی تلاش کرنا پڑی۔

اس تکنیک کے زریعے انسانی جلد سے ایسے ہی نمونے لیے جاتے ہیں اور پھر انہیں پروٹین کی مدد سے متعدد بارآور سٹیم سیلز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اس طریقے سے بنائے گئے ان سٹیم سیلز کے معیار کے بارے میں ابھی بھی بہت سے سوالات موجود ہیں اگر ان کا تقابل ایمبریونک سٹیم سیل سے کیا جائے۔

پروفیسر میسن کے مطابق یہ شعبہ اب ایسے اسقاط ارادی متعد بارآور سٹیم سیلز کی جانب جھک رہا ہے ’اس کے پیچھے اب بہت تحریک ہے اور بہت سا پیسہ بھی اور بہت سارے طاقتور لوگ بھی ہیں۔‘

ڈاکٹر لائل آرم سٹرونگ جو کہ نیو کاسل یونیورسٹی میں ہوتے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ’بغیر کسی شک و شبے کے اس شعبے میں ایک ترقی کا اشارہ دیتی ہے‘۔

مگر انہوں نے تنبیہ کی کہ ’آخر کار سومیٹک سیل نیوکلیائی کے انتقال کی بنیاد پر بنائے گئے سٹیم سیلز کے اثرات اور نتائج انہیں ممنوعہ بنا دیں گے‘۔

اس تحقیق کے مخالفین کہتے ہیں کہ تمام ایمبریوز چاہے وہ تجربہ گاہ میں بنیں یا نہ کہ اندر ایک مکمل انسان بننے کا مادہ ہوتا ہے اور وہ ایک انسان بن سکتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ اخلاقی طور پر غلط ہے کہ ان پر تجربات کیے جائیں۔‘

ان گروہوں کا کہنا ہے کہ سٹیم سیل کو بالغ افراد کے ٹشو سے بنایا جایا چاہیے۔

ہیومن جنیٹکس الرٹ نامی ایک گروہ کے ڈاکٹر ڈیوڈ کنگ نے خبردار کیا کہ ’سائنسدانوں نے بالاخر وہ بچہ پیدا کر دیا ہے جس کے انسانی کلوننگ کی خواہش رکھنے والے منتظر تھے یعنی ایک ایسا طریقہ جس کے زریعے ہم قابل اعتماد طریقے پر انسانی ایمبریوز کے کلون بنا سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے پہلے کہ اس طرح کی مزید تحقیق ہو ہمیں اس پر عالمی قانونی پابندی لگا دینی چاہیے۔ اس تحقیق کی اشاعت بہت ہی غیر زمہ دارانہ عمل ہے۔‘

اس کے برعکس اس نئی تکنیک کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس سے بننے والے ایمبریوز سے کبھی بھی مکمل انسان نہیں بن پائیں گے۔

اسی بارے میں