خواتین کی لمبی عمر کا راز

Image caption خواتین کا مدافعتی نظام مردوں کے مقابلے میں دیر سے بوڑھا ہوتا ہے

ایک تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خواتین کا مدافعتی نظام مردوں کے مقابلے میں دیر سے معممر ہوتا ہے، اس سے لیے خواتین مردوں کے مقابلے میں طویل عمر پاتی ہیں۔

جاپانی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ مردوں کا مدافعتی نظام کمزور ہونے سے ان کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ سائنسی جریدے امیونٹی اینڈ ایجنگ میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق مدافعتی نظام کے معائنے کے بعد کسی بھی شخص کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مدافعتی نظام جسم میں سرطان اور انفکیشن کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے اور نظام میں کمزوری کے باعث ہی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔

جاپانی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مرد اور عورتوں کی عمروں میں اوسط فرق کی وجہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ مدافعتی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں ہی ہیں۔

ٹوکیو میڈیکل اینڈ ڈینٹل یونیوسٹی کے تحقیق کاروں نے 356 خواتین اور مردوں کے خون کے نمونے اکٹھا کیے۔ ان افراد کی عمر 20 سے 90 سال کے درمیان تھی۔

خون کے نمونوں میں سفید خلیوں اور ان مالیکولز کی سطح جانچی گئی جو براہ راست مدافعتی نظام کے خلیوں سے منسلک تھے۔

تحقیق کے مطابق مرد اور خواتین دونوں میں عمر کے ساتھ سفید خلیوں کی فی کس تعداد میں کم ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں خواتین اور مردوں میں مدافعتی نظام کےدو اہم اجزا ٹی سیل اور بی سیل کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔ ٹی سیل جسم کو انفکیشن سے بچاتے ہیں جب کہ بی سیل جسم میں اینٹی باڈیز بناتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ مردوں میں عمر کے ساتھ ساتھ بی سیل اور ٹی سیل کم ہونے کی شرح زیادہ ہے جب کہ خواتین میں عمر بڑھنے کے ساتھ مدافعتی نظام میں دو طرح کے خلیے، جو قدرتی طور بیماریوں کا خاتمہ کرتے ہیں، مردوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے مدافعتی نظام کے جائزے سے کسی بھی شخص کی عمر کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ نتائج کے مطابق مدافعتی نظام کا دیر سے کمزور ہونے کی وجہ ہی سے خواتین کی عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

رائیل ویٹرنری کالج کے سنئیر لیکچرر ڈاکٹر ڈونلڈ پیلمر کہتے ہیں کہ چوہوں پر کی جانی والی تحقیق سے بھی ایسے ہی نتائج سامنے آئے ہیں۔