جی پی ایس کی مدد سے سونامی کا درست اندازہ

Image caption جاپان میں 2011 میں سونامی سے بڑی تباہی پھیلی تھی

سائنس دانوں نے ایک طریقہ دریافت کیا ہے جس کی مدد سے سونامی کے خطرے کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکے گا اور زیادہ جلدی خبردار کیا جا سکے گا۔

ایک جرمن ٹیم نے کہا ہے کہ زلزلے کے چند منٹوں کے اندر اندر جی پی ایس اس کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

ٹیم کا خیال ہے کہ اگر جاپان میں 2011 میں آنے والی سونامی میں یہ ٹیکنالوجی استعمال ہوتی تو لوگوں کو زیادہ جلدی خبردار کیا جا سکتا تھا۔

جب سمندر میں زلزلے کے بعد سونامی کی لہریں بلند ہوتی ہیں تو ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ یہ لہریں منٹوں میں ساحل تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہیں۔

موجودہ انتباہی نظام علمِ زلزلہ آنے کے بعد زمین کے ارتعاش سے پیدا ہونے والی توانائی کی لہروں کا جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن زلزلے کے ابتدائی لمحات میں یہ ڈیٹا ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔

تاہم اب جرمن ریسرچ سنٹر فار جیو سائنسز کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ سیٹیلائٹ نیویگیشن سے زیادہ بہتر انتباہی نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔

اس نظام میں ایسے ممالک جہاں زلزلے زیادہ آتے ہیں، وہاں ساحلوں پر جی پی ایس سینسر نصب کیے جائیں گے جو زیرِ آب لرزش کو ناپیں گے۔

ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریاس ہوشنر کہتے ہیں، ’زلزلے میں زمین کی ایک پلیٹ پھسل کر دوسری کے نیچے چلی جاتی ہے۔ اس سے ساحل کی شکل تھوڑی سی بدل جاتی ہے، جسے جی پی ایس ناپ سکتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان معلومات کو زلزلے کا منبع اور شدت معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے: ’اس کے بعد آپ سونامی اور لہروں کی اونچائی کی خاصی درستی کے ساتھ پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔‘

یہ عمل منٹوں کے اندر مکمل ہو جائے گا، جس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کو بہت تیزی سے خبردار کیا جا سکے گا۔

2011 میں جاپان میں آنے والی سونامی سے 16 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس ٹیکنالوجی سے وہاں خاصا فرق پڑ سکتا تھا۔

جاپان کے موسمیاتی ادارے نے زلزلے کے تین منٹ کے اندر اندر خبردار کر دیا تھا، لیکن اس نے زلزلے کے شدت کا کم اندازہ لگایا تھا۔

اس نے تخمینہ لگایا تھا کہ زلزلہ کی شدت 7.9 ہے لیکن اصل میں یہ 30 گنا زیادہ تھی۔

لیکن جاپان کے جی پی ایس سٹیشنوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر انھیں استعمال کیا جاتا تو تین منٹ کے اندر اندر زلزلے کی درست شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔

اس وقت چلی اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں جی پی ایس نیٹ ورک موجود ہے۔

تاہم ڈاکٹر ہوشنر کہتے ہیں کہ انتباہی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے انخلا کا اچھا منصوبہ بھی نافذ ہونا ضروری ہے۔

اسی بارے میں