اے این اے بوئنگ 787 کی پروازیں دوبارہ شروع

Image caption آل نپون ائر ویز کے ایک طیارے کو پرواز کے فوری بعد بیٹری کے مسائل کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔

جاپان کی آل نپون ایئرویز ویز نے اپنی بوئنگ ڈریم لائنر 787 کی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

آل نیپون ایئرویز ویز یا اے این اے کی پہلی پرواز اتوار کو شمالی جاپان میں سپارو کے علاقے سے ٹوکیو کے ہوائی اڈے ہنیڈا کے درمیان تھی۔

یاد رہے کہ آل نیپون ایئرویز ویز بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ مسافروں کے لیے استعمال کرنے والی دنیا کی پہلی ہوائی کمپنی تھی اور اس نے اپنے اس جہاز میں بعض تکنیکی خرابیوں کے سبب جنوری سے اس کی پروازیں بند کر دی تھیں۔

اے این کے علاوہ دوسری ہوائی کمپنیوں نے اپنے ڈریم لائنر طیاروں کی پروازیں پہلے ہی شروع کر دی ہیں مگر اے این کی پروازیں انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اے این اے کے زیر استعمال دنیا میں سب سے زیادہ یعنی سترہ ڈریم لائنر طیارے ہیں۔

اے این کے طیارے میں بیٹری کے مسائل کے بعد جاپان ایئرویز لائن کے ایک طیارے کو بھی بیٹری ہی کے مسائل کی وجہ سے ہنگامی طور پر اترنا پڑا تھا۔

ان طیاروں کوگراؤنڈ کرنے کی اہم وجہ ان طیاروں میں بیٹری کے مسائل بتائی گئي تھی جس کی وجہ سےامریکہ میں ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آيا تھا۔ اسی کے بعد سے دنیا بھر کے تقریبا میں زیر استعمال پچاس طیاروں کی پروازیں بند کر دی گئی تھیں۔

لیکن ستائیس اپریل کو ایتھیوپین ایئرویز ویز نے ایک ڈریم لائنر طیارے کی پرواز کے ساتھ یہ پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل کئي ہفتوں سے انجنیئرز جہاز میں نئی بیٹریاں نصب کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس میں کامیابی کے بعد امریکی میں ہوابازی کے نگران ادارے فیڈرل ایویشن اتھارٹی نے نئی بیٹریوں کے ڈیزائن کی منظوری دی اور اس کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

Image caption ان طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کے بعد پہلی پرواز ایتھیوپین ایئر ویز کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے نے ادیس ابابا سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے درمیان کی تھی

اس مہینے اے این پانچ پروازوں کے لیے ڈریم لائنر طیارے استعمال کرے گی جس کے بعد یکم جون سے ان طیاروں کو باقاعدہ ہوائی کمپنی کے پروازوں کے معمول کا حصہ بنایا جائے گا۔

اے این کے پاس سترہ ڈریم لائنر طیارے ہیں جبکہ اس نے چھتیس طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے اور جمعرات کو اے این اے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی کمپنی اس طیارے پر اب بھی یقین رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ ان طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کے بعد پہلی پرواز ایتھیوپین ایئرویز ویز کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے نے ادیس ابابا سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے درمیان کی تھی۔

بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے طیارے کی بیٹری کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے تقریبا دو لاکھ گھنٹے کا وقت لگا جس کے لیے عملے نے مستقل چوبیس گھنٹے کام کیا۔

کمپنی کے مطابق تقریبا تین سو انجنیئرز پر مبنی دس ٹیمیں تشکیل دی گئیں جنہوں نے مختلف کمپنیوں کے 787 طیاروں میں بیٹری ٹھیک کرنے کا کام کیا۔

اس وقت دنیا بھر میں پچاس کے قریب 787 ڈریم لائنر طیارے سروس میں ہیں اور ان سب میں نئی بیٹریاں لگائی گئی ہیں۔

Image caption اے این اے کے زیر استعمال دنیا میں سب سے زیادہ یعنی سترہ ڈریم لائنر طیارے ہیں

ہر ایک787 طیارے میں دو لیتھیم آئن بیٹریاں پہلے ہی سے ہیں اور اب اس میں دو اضافی بیٹریاں بھی لگائی گئی ہیں جو کم درجہ حرارت میں کام کرتی ہیں۔ ان بیٹریوں کو سٹینلیس سٹیل کے باکس میں نصب کیا گيا ہے۔

پہلے سے موجود بیٹریاں پرواز کے دوران اب آن نہیں ہونگی اور ان کا استعمال لینڈنگ کے دوران بیک اپ پاور کے لیے ہی ہوگا۔

اس طیارے کی قیمت دو سو ملین ڈالر سے تین سو ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور بھارت کی ایئرویز انڈیا، امریکہ کی یونائیٹڈ ایئرویز لائنز اور قطر ایئرویز سمیت دنیا کی آٹھ ہوائی کمپنیاں اب تک فروخت ہونے والے پچاس بوئنگ787 طیاروں کی مالک ہیں۔

ان انچاس میں سے تئیس صرف جاپان کی دو ہوائی کمپنیوں کے پاس ہیں جبکہ مختلف ہوائی کمپنیوں نے آٹھ سو سے زائد طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔

ڈریم لائنر طیارے دو ہزار گيارہ میں پہلی بار سروس میں متعارف کیےگئے تھے۔ جہاز کا بیشتر حصہ ہلکے اجزاء اور مادوں سے بنایا گيا ہے جس سے دوسرے طیاروں کے مقابلے اس میں ایندھن کی کم کھپت ہوتی ہے۔

اسی بارے میں