یادداشت برقرار رکھنے میں مددگار پروٹین

Image caption یادداشتیں ہپوکیمپس میں بنتی اور محفوظ ہوتی ہیں

سائنس دانوں نے ایک ایسی اہم دماغی پروٹین کا نیا کردار دریافت کیا ہے جو طویل مدت یادداشت برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

نیچر نیوروسائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ آرک پروٹین دماغی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے نئے طریقے دریافت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہی پروٹین ممکنہ طور پر آٹزم کی بیماری میں بھی کردار ادا کرتی ہے، جب کہ ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایلزائمرز (alzheimers) کے مریضوں کے دماغوں میں بھی آرک پروٹین مفقود ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں نیورولوجی اور فزیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سٹیو فنکبینر تھے۔ ان کی تجربہ گاہ میں آرک پروٹین کے اہم کردار پر تحقیق کی گئی۔

انھوں نے کہا: ’سائنس دان جانتے تھے کہ آرک طویل مدت یادداشت میں کام کرتی ہے، کیوں کہ وہ چوہے جن کے دماغوں میں یہ پروٹین نہیں ہوتی، وہ نئے کام سیکھ تو لیتے ہیں لیکن اگلے روز انھیں یاد نہیں رکھ پاتے۔‘

مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ آرک طویل مدت یادداشت مرتب ہونے میں دماغی خلیوں کے ’منتظم‘ کے طور پر کام کرتی ہے۔

تحقیق سے ظاہر ہوا کہ طویل مدت یادداشت مرتب ہوتے وقت بعض جینز کا مخصوص اوقات پر آن اور آف کیا جانا ضروری ہے، تاکہ ایسی پروٹینیں بن سکیں جو دماغی خلیوں کو نئی یادیں بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ یہ کام آرک پروٹین سرانجام دیتی ہے۔

ڈاکٹر فنکبینر کہتے ہیں کہ جن لوگوں میں یہ پروٹین نہیں ہوتی ان میں یادداشت کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں:

’سائنس دانوں نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ ایلتس ہائمرز کے مریضوں کے دماغ کے یادداشت کے مرکز ہِپوکیمپس میں آرک ختم ہو جاتی ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرک کی تیاری اور ترسیل میں گڑبڑ آٹزم بیماری کی اہم وجہ ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے انسانی صحت اور بیماری میں آرک پروٹین کے کردار کے مطالعے سے دماغی بیماریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور مستقبل میں ان کا مقابلہ کرنے کے نئے طریقے سامنے آئیں گے۔

اسی بارے میں