’انسانی ڈی این اے پیٹنٹ نہیں کیا جا سکتا‘

Image caption ایک اندازے کے مطابق انسانی ڈی این اے کے چالیس فیصد جین اب پیٹنٹ شدہ ہیں

امریکی سپریم کورٹ نے ایک متفقہ فیصلے میں قرار دیا ہے کہ انسانی جِین کو ’پیٹنٹ‘ نہیں کیا جا سکتا تاہم مصنوعی طریقے سے بنائی گئی ڈی این اے کی نقل کے جملہ حقوقِ دانش حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

عدالت نے یہ فیصلہ امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی کی جانب سے چھاتی اور بچہ دانی کے کینسر سے متعلق دو جینز کے پیٹنٹ منسوخ کرتے ہوئے دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ انسانی ڈی این اے ایک قدرتی چیز ہے اور اس لیے اسے پیٹنٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

امریکہ میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ افراد نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس قسم کے پیٹنٹ پر پابندی لگتی ہے تو جین پر تحقیق اور بیماریوں کے علاج تلاش کرنے میں ہونے والی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

امریکی سپریم کورٹ کے جج جسٹس کلیرنس ٹامس نے جمعرات کو فیصلے میں کہا کہ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ڈی این اے فطرتی پیداوار ہے اور کوئی اسے صرف اس لیے پیٹنٹ کرنے نہیں دیا جا سکتا کہ اسے الگ کر لیا گیا ہے۔‘

Image caption قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ڈی این اے فطرتی پیداوار ہے: عدالت

تاہم انہوں نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ ’مصنوعی مالیکیول جنہیں کومپلیمنٹری ڈی این اے کہا جاتا ہے پیٹنٹ کیے جا سکتے ہیں‘ کیونکہ یہ قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتے۔

آج کل محققین اور نجی کمپنیاں جین سے متعلقہ بیماریوں کے علاج پر تحقیق کے لیے انسانی ڈی این سے متعلقہ جین الگ کر کے اس پر کام کرتی ہیں۔

مدعی کمپنی اے سی ایل یو کی وکیل ساندرا پارک نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے کی وجہ سے مریضوں کو جین کے تجربات تک زیادہ رسائی ہوگی اور سائنسدان مقدمے بازی کے خوف کے بغیر جین پر تحقیق کر سکیں گے۔‘

امریکہ میں جامعات اور طبی تحقیق کرنے والی کمپنیاں تقریباً تین دہائیوں سے انسانی جین کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کروانے میں کامیاب رہی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق انسانی ڈی این اے کے چالیس فیصد جین اب پیٹنٹ شدہ ہیں۔

اسی بارے میں