خواتین کے خلاف تشدد ’وبائی صورت‘ اختیار کر چکی ہے

Image caption خواتین کے خلاف اپنے کے ہاتھوں سب سے زیادہ تشدد جنوب مشرقی ایشیا میں ہوتا ہے

صحت کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

ورلڈ ہلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق قتل کی جانے والی تمام خواتین میں سے 38 فیصد خواتین اپنے والدین کے ہاتھوں قتل کی جاتی ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تشدد ڈپریشن اور دوسری بیماریوں کے بڑے اسباب ہیں۔

ڈبلیو ايچ او کی سربراہ مارگریٹ چان نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد ’عالمی سطح پر صحت کو لاحق وبائی نوعیت مسئلہ کا ہے‘۔

اس رپورٹ میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ عالمی سطح پر اسے برداشت کرنے پر روک لگائی جانی چاہیے۔

اس میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے اہلکار سے نئے گائیڈ لائنز کو اپنانے کی بات کہی گئی ہے تاکہ اس برائی سے نجات مل سکے اور اس کی شکار خواتین کو بہتر تحفظ فراہم ہو سکے۔

Image caption تشدد کی شکار خواتین کو شراب نوشی کے مسائل، اسقاط حمل اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری جیسے ایچ آئی وی وغیرہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

خواتین کے خلاف شریک حیات اور دوسرے لوگوں کے ذریعے کیے جانے والے تشدد پر ڈبلیو ایچ او، لندن سکول آف ہائیجن اینڈ ٹروپیکل میڈیسین اور جنوبی افریقی میڈیکل ریسرچ کونسل نے مشترکہ رپورٹ شائع کی ہے۔

اس رپورٹ میں مندرجہ چیزوں کی نشاندہی کی گئی ہے:

  • سب سے قریبی پارٹنرز کے ذریعے خواتین کے خلاف سب سے زیادہ تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور 30 فی صد خواتین عالمی سطح پر اس کا شکار ہوتی ہیں۔
  • تمام قتل ہونے والی خواتین میں سے 38 فی صد اپنے ہی والدین کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں۔
  • جنسی اور جسمانی طور پر تشدد کی شکار خواتین میں سے 42 فی صد کو زخمی ہو جاتی ہیں۔
  • دوسرے افراد کے حملے کی شکار خواتین میں ڈیپریشن ہونے کے امکان ڈھائی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
  • عام خواتین جو تشدد کا شکار نہیں ہوئي ہیں ان کے مقابلے اپنے ساتھی کے ذریعے تشدد کا شکار ہونے والی خواتین میں یہ دو گنا ہوتا ہے۔
  • تشدد کی شکار خواتین میں شراب نوشی کے مسائل، اسقاط حمل اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری جیسے ایچ آئی وی وغیرہ ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
  • جنوب مشرقی ایشیائی ممالک بنگلہ دیش، مشرقی تیمور، بھارت، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ پارٹنر کی جانب سے تشدد کیا جاتا ہے جبکہ غیر کے ذریعے زیادہ آمدنی والے لوگوں میں اس کا فی صد سب سے زیادہ ہے

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک اور ایل ایس ایچ ٹی ایم کے پروفیسر شارلٹ واٹس کا کہنا ہے کہ ’یہ نئے اعداد و شمار یہ واضح کرتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد عام ہے اور ہمیں اس کی تدارک کی فوری ضرورت ہے تاکہ اس میں مضمر خواتین کے صحت کے مسائل کو دور کیا جاسکے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ کلنک کا خوف بھی بہت سی خواتین کو جنسی تشدد کی رپورٹ درج کرانے سے باز رکھتا ہے۔

ڈبلیو ايچ او کا کہنا ہے کہ جون کے آخر سے یہ دوسرے معاون اداروں کے ساتھ نئے گائد لائنز کو نافذ کرنا شروع کر دے گی۔

اسی بارے میں