روسی شہابیے کی لہر کا زمین کے گرد چکر

Image caption شہابیہ کے گرنے سے زمین میں بڑے بڑے گڑھے بن جاتے ہیں اور زمین متزلزل ہوجاتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فروری کے مہینے میں روس کی فضا میں سیارچہ جلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی شاک ویو یا لہر اتنی طاقتور تھی کہ اس نے کرۂ ارض کے گرد دو بار چکر لگائی۔

سائنسدانوں نے اس کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے ان سنسروں یا آلات کا استعمال کیا جن سے جوہری تجربے کی شدت کی پیمائش کی جاتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آج تک ریکارڈ کی گئی تمام شدید لہروں سے یہ زیادہ طاقت ور تھا۔

یہ تحقیق جغرافیہ اور طبیعیات کے جرنل جیو فیزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہوا ہے۔

ریسرچروں نے جوہری تجربے پر جامع پابندی کی تنظیم (سی ٹی بی ٹی او) کے عالمی مونیٹرنگ سسٹم (آئی ایم ایس) نیٹ ورک پر شہابیہ کی بارش کے اعداد وشمار کی جانچ پڑتال کی۔

اس میں سائنسدانوں نے الٹرا لو فریکوئنسی یعنی انتہائی کم سطح پر اٹھنے والی لہروں کا مطالع کیا جسے انفرا ساؤنڈ کہا جاتا ہے اور جو جوہری دھماکوں کے تجربوں کے دوران اٹھتے ہیں۔

اس سسٹم پر دوسرے طریقوں سے ہونے والے دھماکوں کی شدت کی بھی پیمائش کی جاسکتی ہے۔

فرانس کی جوہری توانائی کمیشن کے الکسی لا پیشن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ روس میں چمکنے والے شہابیے کی شدت 460 کلو ٹن ٹی این ٹی یونٹ کے برابر تھی۔

ان کے مطابق اس کی شدت سنہ 1908 میں سائبیریا کے تنگسکا میں گرنے والے شہابیے کے شدت کے بعد سے سب سے زیادہ تھی۔

دریں اثنا سائنسدانوں کی ایک علیحدہ جماعت نے تنگسکا میں شہابیہ گرنے کے واقعے پر مرکوز تحقیق شائع کی ہے۔

Image caption تینگا جنگل میں شہابیے کی بارش کی زد میں آنے والے پیڑ ابھی تک پڑے ہوئے ملتے ہیں

پلینیٹری اینڈ سپیس سائنس نامی جرنل میں شائع ریسرچ پیپر میں کہا گیا ہے کہ جدید دور میں 1908 میں گرنے والے آگ کے گولے نے سب سے زیادہ اثرات پیدا کیے تھے۔ان شہابیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں فولادی قوت زیادہ تھی۔

کہا جاتا ہے کہ تنگسکا کے فضائی دھماکے تین سے پانچ میگا ٹن ٹی این ٹی کے مساوی تھے یعنی دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم دھماکوں سے سو گنا زیادہ طاقتور۔

یاد رہے کہ شہابیوں کی اس بارش سے دو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے میں جنگلات زمین بوس ہو گئے تھے۔

یوکرین کی قومی سائنس اکیڈمی کے وکٹر کواسنیستیا کا کہنا ہے انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس علاقے میں شہابیہ کی بارش کے معدنی ملبے کے نمونوں کا مطالعہ کیا جو کہ پیڑوں میں پھنس گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نمونے سنہ 1970 اور 1980 کی دہائی میں اکٹھے کیے گئے تھے اور ان کی ہائی ریزولیوشن امیج تیار کی گئی اور پھر ان لوگوں نے اس کا مطالعہ کیا۔

ان نمونوں میں کاربن سے مالامال مواد ملا شہابیے سے متاثرہ جگہ میں پایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں