’دنیا کی اب تک کی قدیم ترین تحریر دریافت‘

Image caption تحقیق کار کہتے ہیں کہ پتھر کے ٹکڑوں پر ملنے والے یہ نشانات پانچ ہزار سال پرانے ہیں۔

چین میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ انہوں نے پتھر کے دو قدیم ٹکڑوں پر کھدا ہوا ایک ایسا نوشتہ دریافت کیا ہے جو دنیا میں اب تک دریافت ہونے والی قدیم ترین تحریروں میں سے ایک ہوسکتی ہے۔

تحقیق کار کہتے ہیں کہ پتھر کے ٹکڑوں پر ملنے والے یہ نشانات پانچ ہزار سال پرانے ہیں۔ بابل و نینوا کی تہذیب کے آثار سے بھی اُسی دور کی پتھر کی سلوں پر نقش قدیم ترین تحریریں دریافت ہوچکی ہیں۔

یہ تحریریں اصل میں پتھر کی بنی ہوئی دو قدیم کلہاڑیوں کے اوپر کھدے ہوئے نقوش ہیں جو شنگھائی کے قریب سے کھدائی کے دوران دریافت ہوئی ہیں۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ دونوں ٹوٹی ہوئی کلہاڑیاں پانچ ہزار برس پرانی ہیں۔

اس طرح یہ نوادرات اس سے پہلے دریافت ہونے والے چینی تحریر کے قدیم ترین آثار سے ایک ہزار سال پرانی ہیں۔

مگر اس بارے میں چینی ماہرین کی رائے منقسم ہے کہ آیا یہ نقوش باقاعدہ تحریر ہیں یا محض علامات کا مجموعہ۔

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ یہ قدیم نقوش بظاہر الفاظ کی لڑیاں لگتے ہیں اور ممکنہ طور پر چینی زبان کی ابتدائی شکل بھی ہوسکتے ہیں لیکن دوسرے سائنسدان کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ یہ قدیم علامتیں ہوں۔

اب تک ماہرین بابل و نینوا کی تہذیب کے آثار سے دریافت ہونے والی پتھر کی سلوں پر کھدی ہوئی تحریر کو ہی دنیا کی قدیم ترین تحریر مانتے ہیں جو کہ تین ہزار تین سو قبل مسیح پرانی ہیں۔

پتھر کی ٹوٹی ہوئی یہ کلہاڑیاں قدیم نوادرات کے ایک بڑے ذخیرے کا حصہ تھیں جو شنگھائی کے جنوب میں 2003 سے 2006 کے دوران کھدائی میں دریافت ہوئی تھیں۔

مگر نامہ نگاروں کے مطابق آثار قدیمہ کے ماہرین کو ان کا معائنہ کرنے اور ان کے بارے میں رائے قائم کرنے میں برسوں لگے ہیں۔

اب تک چین کے باہر کے ماہرین نے ان دریافتوں کا جائزہ نہیں لیا ہے۔

اسی بارے میں