مصنوعی طریقے سے خمیر کی تیاری

Image caption سائنس دانوں کا خیال ہے کہ خمیر کا خلیہ زیادہ پیچدہ اور الجھا ہوا ہوتا ہے

برطانیہ میں سائنس دان کیمیاوئی ترکیب سے بنے والے پہلے خمیر کے لیے مصنوعی کروموسوم بنانے میں مصروف ہیں۔ مصنوعی طور پر تیار ہونے والے خمیر سے مختلف نوعیت کی ویکسین، بائیو فیولز اور کیمکل بنانے میں مدد ملے گی۔

سائنس دانوں کی ٹیم خمیر کے جینوم کے لیے سولہ کروموسوم بنائے گی اورڈی این اے کا بڑا حصہ کمپیوٹر پر ترتیب دیا جائے گا۔

خمیر میں سے قدرتی ڈی این اے نکال کر اس میں مصنوعی ڈی این اے منتقل کیا جائے گا۔اس تحقیقاتی ٹیم میں امریکہ، چین اور بھارت کے سائنس دان بھی شامل ہیں۔اس ٹیم نے اس سے قبل بھی خمیر کے دیگر جینوم بنائے ہیں۔

برطانیہ کی حکومت نے اس پراجیکٹ کے لیے دس لاکھ پاونڈ کی معالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مصنوعی جنیات سے بنائے گئے خمیر کی تیاری 2017 میں مکمل ہو گی۔

مصنوعی جنیاتی سائنس میں جین کی مدد سے کوئی بھی نئی چیز بنانا بالکل ایسا ہے جیسے دیگر آلات استعمال کر کے کوئی نئی مشین بنائی جائے۔

بعض ماہرین کے خیال میں نئی تحقیق صنعتی انقلاب میں بینادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

برطانیہ کے سائنس دانوں کی ٹیم کے سربراہ پال فریمونٹ نے بتایا کہ جنیاتی ساخت بنانے میں کروموسوم بنانا بنیادی حیثیت رکھتا ہے.

انھوں نے کہا کہ ’خمیر میں نشاستہ سے توانائی بنتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ انسان نے خمیر کے اندر موجود آرگنزم سے مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اب ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اس سے مشکل اشیا بھی بنائیں۔ جو جدید زندگی میں کام آ سکیں۔‘

پروفیسر فریمونٹ کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے انسانی حیاتیات کو بہتر طریقے سے سمھجنے میں مدد ملے گی۔

انسان نے کامیابی سے کئی قدرتی پہلوں پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔ جیسے زراعت میں مصنوعی تخم ریزی اور اب علم الحیات یا بائیولوجی میں مصنوعی امتزاج۔

سنہ 2010 میں پہلی مرتبہ کیمیاوئی ترکیب سے بنے ڈی این اے سے زندہ خلیہ کنٹرول کیا گیا تھا۔ مصنوعی ڈی این اے والا خلیہ بیکٹریا کا تھا جسےنیوکلئیس کے بغیر بنایا گیا تھا۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ خمیر کا خلیہ زیادہ پیچدہ اور الجھا ہوا ہوتا ہے۔انسانوں اور پودوں کی ماند خمیر کے خلیے میں زیادہ آرگنزم ہوتے ہیں جن میں ڈی این اے نیوکلئیس کے اندر ہوتا ہے۔

اسی بارے میں