مور کے حسین پروں کا راز

مور کا ناچ
Image caption نر مور کے لیے ضروری تھا کہ ان کے پر اتنے بڑے ہوں کہ مادہ کی پوری توجہ حاصل کر سکیں:تحقیق

امریکہ میں ماہرین نے مورنیوں کی آنکھوں کی حرکت سے معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں مور کے رنگین پروں میں کیا حُسن دکھائی دیتا ہے۔

نر مور اپنے رنگین پروں کی حرکت سے مادہ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماہرین نے مادہ موروں کی آنکھوں پر کیمرے لگا کر معلوم کرنے کی کوشش کی کہ نر مور جب اپنی دم پر رنگین پروں کو پنکھے کی طرح پھیلاتے ہیں اس وقت مادہ کا دھیان کس طرف ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ’جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیالوجی‘ میں شائع کیے گئے ہے۔

مادہ مور کی آنکھ کا پیچھا کرنے والے کیمرے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی توجہ حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے، اور اس کے لیے نر مور کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے، جس میں اپنے رنگین پر پھیلا کر ان کو مخصوص انداز میں ہلانا بھی شامل ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مادہ مور نر مور کے پروں میں خاص طور پر کس چیز کو تلاش کرتی ہے۔ ان کی آنکھوں کی حرکت بتاتی ہے کہ مادہ مور نر مور کے پروں کے پھیلاؤ اور ان پر بنے آنکھ نما نقوش سے متاثر ہوتی ہے۔

مور کے پر اِرتقاء کے اُس عمل کی شاید بہترین مثال ہیں، جس کے بارے میں چارلز ڈارون نے کہا تھا کہ اس کے ذریعے جانوروں میں کوئی ایسی خوبی پیدا ہو جاتی ہے جس کا مقصد صرف جنسِ مخالف کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

موروں پر اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر جیسیکا یارزنسکی نے بتایا کہ جانوروں کی بہت سی اقسام نے اپنے اندر ایسی خوبیاں پیدا کی ہیں جو ان کی بقاء کے لیے ضروری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلکہ مور کے پر تو کسی دوسرے جانور کے حملے کی صورت میں فرار مشکل بنا دیتے ہیں۔

موروں پر اس تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ مادہ کی نگاہیں مسلسل ارد گرد کے ماحول اور نر کے پروں پر ہوتی ہیں، اور شاید ایسا ضروری بھی ہے کیونکہ اگر وہ مکمل طور پر ماحول سے دھیان ہٹا لیں تو باآسانی کسی جانور کی خوراک بن سکتی ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے نر مور کے لیے ضروری تھا کہ ان کے پر اتنے بڑے ہوں کہ مادہ کی پوری توجہ حاصل کر سکیں۔

اسی بارے میں