’میرس وائرس سارس کی مانند نہیں پھیلے گا‘

میرس وائرس
Image caption یہ نیا وائرس میرس 2012 میں سامنے آیا تھا

سعودی عرب میں وزرا کا کہنا ہے کہ نئے وائرس ’میرس‘ کے اس پیمانے پر پھیلنے کا امکان بہت کم ہے جس طرح اس سے قبل ’سارس‘ نامی وائرس پھیلا تھا۔

میرس کے زیادہ تر کیس اب تک سعودی عرب میں سامنے آئے ہیں۔ میرس کا شکار ہونے والے افراد میں سے نصف ہلاک ہو چکے ہیں۔

میرس کا وائرس اسی گروپ میں شامل ہے جس میں ذکام اور سارس کے وائرس بھی گنے جاتے ہیں۔ سارس کے پھیلنے سے سات سو چوہتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم کوروناوائرس‘ یا میرس دو ہزار بارہ میں سامنے آیا تھا۔ دنیا بھر میں اب تک اس کے نوّے کیس سامنے آئے ہیں جن میں سے پینتالیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

عالمی سطح پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میرس بھی سارس کی طرح بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

میرس کی زیادہ تر مریض مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہیں جن میں اردن، قطر، سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، تیونس اور برطانیہ میں بھی کچھ ایسے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں جنہوں نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا تھا۔

محققین نے سعودی عرب میں رپورٹ ہونے والے سینتالیس کیسوں کی تفصیلات شائع کی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس وائرس کا شکار ہونے والے افراد میں زیادہ تر بڑی عمر کے مرد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے متاثرین پہلے سے ہی کسی دوسری بیماری میں بھی مبتلا تھے۔ رپورٹ ہونے والے کیسوں میں دو تہائی افراد وہ تھے جنہیں ذیابطیس کی بیماری تھی۔

اس تحقیق کے سربراہ اور پبلک ہیلتھ کے نائب وزیر پروفیسر زائد ممش کا کہنا ہے ’سارس کے ساتھ مشابہت رکھنے کے باوجود ان دونوں میں بہت اہم فرق ہے۔‘

’سارس زیادہ وبائی مرض تھا اور اس کا شکار صحت مند اور کم عمر افراد ہوئے۔ اس کے مقابلے میں میرس زیادہ مہلک لگتا ہے۔ اس کے ساٹھ فیصد مریض جنہیں دوسری دائمی بیماریاں بھی تھیں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب تک ایسے شواہد بہت کم ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ میرس بھی اسی پیمانے پر پھیلے گا جس طرح سارس پھیلا تھا۔‘

اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کی وجوہات کیا ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں میں اس وائرس کی شرح کو کم کرنے کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں