’موت کا حق‘ مانگنے والے مقدمہ ہار گئے

Image caption نکلسن گردن سے نیچے مفلوج تھے

لاکڈ اِن سنڈروم کے مریض ٹونی نکلسن اور سڑک کے حادثے میں مفلوج ہونے والے پال لیمب کے خاندان ’موت کا حق‘ کا مقدمہ ہار گئے ہیں۔

ایک برطانوی اپیل کورٹ نے اس سے قبل دیا گیا ہوا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ نکلسن کو کسی ڈاکٹر سے یہ کہنے کا حق نہیں تھا کہ وہ ان کی زندگی ختم کر دیں۔ ان کی بیوہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی۔

لیمب بھی اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایک اور مفلوج شخص نے وہ مقدمہ جیت لیا ہے جس میں انھوں نے طبی حکام کو اس بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی کہ وہ ان مریضوں کا علاج کرتے ہیں جو مرنا چاہتے ہیں۔

اس شخص کا نام مارٹن ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر یا نرسیں انھیں سوئٹزرلینڈ جانے میں مدد کریں جہاں وہ خودکشی کی ایک تنظیم کی مدد سے مرنا چاہتے ہیں۔

اس کی اہلیہ اور خاندان کے دوسرے افراد اس کی خودکشی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔

نکلسن اور لیمب کی مقدمے میں فیصلے کا انحصار اس بات پر تھا کہ آیا ہائی کورٹ یہ کہنے میں حق بجانب ہے یا نہیں کہ اس بات کا فیصلہ عدالتوں کی بجائے پارلیمان کریں کہ کسی کو مرنے میں مدد دینے سے متعلق قانون کو بدلا جائے۔

تین رکنی عدالت نے متفقہ طور پر نکلسن اور لیمب کی اپیل خارج کر دی۔

فیصلے میں لارڈ چیف جسٹس نے کہا کہ اسقاطِ حمل اور سزائے موت جیسے زندگی اور موت کے معاملات پر پارلیمان ’قوم کے ضمیر‘ کی ترجمان ہے۔

’تاہم یہ ججوں کا کام نہیں ہے۔ ہماری ذمے داری متعلقہ قانونی اصول دریافت کرنا ہے اور قانون کا نفاذ ہے۔‘

نکلسن گذشتہ برس اپنے گھر میں قدرتی طریقے سے فوت ہو گئے تھے۔ تاہم ان کی بیوہ جین نے یہ لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس فیصلے سے ’شدید مایوسی‘ ہوئی ہے۔

’وہ ہم سے اتنی آسانی سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔‘ انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گی۔

انھوں نے کہا: ’اگرچہ ہم ہار گئے ہیں، لیکن ہماری قانونی ٹیم اس نتیجے سے خاصی خوش ہے۔ اپیل کورٹ نے بعض نکات منظور کر لیے ہیں جنھیں ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ درست سمت میں قدم ہے۔‘

پال لیمب قانون میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تاکہ کوئی ایسا ڈاکٹر جو کسی مریض کو مرنے میں مدد دیتا ہے، اسے قتل کے الزام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لیڈز سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ لیمب 23 سال قبل کار کے حادثے کے بعد گردن سے نیچے مکمل طور پر مفلوج ہو گئے تھے، اور کہتے ہیں کہ وہ مسلسل درد کی حالت میں ہیں۔

مسز نکلسن اور لیمب کے وکیل سائمو چاہل نے کہا کہ ’مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ عدالت اس معاملے پر بحث کرے،‘ اس لیے لیمب کے سامنے واحد راستا یہی ہے کہ وہ عدالتوں کو قائل کر سکیں کہ ان کا مسئلہ اصل اور قانونی ہے:

’ایسے لوگوں کو عمر بھر کے لیے مصیبت میں مبتلا کیے رکھنا غلط ہے جو مرنا چاہتے ہیں۔ پال لیمب جیسے لوگوں کو ایک اچھی موت سے محروم رکھنا غلط ہے۔‘

’کیئر ناٹ کلنگ‘ نامی مہم کے ڈاکٹر اینڈریو فرگوسن نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: ’تین جج قانونی اور میرے خیال سے اخلاقی پہلوؤں پر بہت واضح تھے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر قانون بدلا جائے تو اسے صرف اور صرف پارلیمان ہی بدلے۔ عدالتیں یہ کام نہیں کر سکتیں۔‘

اسی بارے میں