صاف پانی اورصابن سے بچے کے قد میں اضافہ

Image caption پہلی بار افزائش میں بہتری کے لیے پانی اور صفائی ستھرائی کے کردار کے شواہد ملے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے صاف پانی اور صابن سے نہ صرف صفائی ستھرائی ہوتی ہے بلکہ اس سے بچوں کا قد بھی بڑھ جاتا ہے۔

دنیا بھر سے جمع کردہ اعداد و شمار کے جائزے سے اچھی صفائی ستھرائی والے گھروں میں پانچ برس سے کم عمر کے بچوں کے قد میں آدھے سینٹی میٹر کے اضافے کے شواہد ملے ہیں۔

یہ تحقیق پاکستان، بنگلہ دیش، ایتھیوپیا، نائجیریا، چلی، گوئٹے مالا، نیپال، جنوبی افریقہ، کینیا اور کمبوڈیا میں کی گئی۔

دنیا بھر میں ساڑھے چھبیس کروڑ بچوں کی افزائش کمزور ہوتی ہے جس کے اثرات طویل المدتی ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق لنڈن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن نے بین الاقوامی خیراتی تنظیم واٹرایڈ کے اشتراک سے کی۔ اس میں دس ہزار کے قریب بچے شامل تھے۔

تحقیق کار ڈاکٹر ایلن ڈینگور اس تحقیق کے سربراہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو صاف پانی اور صفائی ستھرائی دست کی بیماری کی علامات سے ہونے والی اموات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس تحقیق سے پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ ان سہولیات کی فراہمی سے بچوں کی افزائش پر اہم اثر پڑتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’ہم نے معلوم کیا ہے کہ ان چیزوں سے بچوں کا قد بہتر ہوتا ہے، جو بہت اہم ہے‘۔

انھوں نے بتایا کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ افزائش میں بہتری کے لیے پانی اور صفائی ستھرائی کے کردار کے شواہد ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی بچہ گندا پانی پی کر دست کی بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کے قد پر اثر پڑے گا کیوں کہ بچپن میں بار بار ہونے والی بیماریوں سے افزائش متاثر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ڈینگور نے کہا: ’یہ بات بہت منطقی لگتی ہے کہ گندے پانی، دست کی بیماری اور افزائش کے درمیان تعلق ہے، لیکن اس کے شواہد اس سے پہلے کبھی پیش نہیں کیے گئے تھے۔

Image caption اگر کوئی بچہ گندا پانی پی کر دست کی بیماری کا شکار ہو جائے تو اس کے قد پر اثر پڑے گا۔

’نصف سینٹی میٹر زیادہ بڑا اضافہ نہیں ہے لیکن ہمارے تخمینے کے مطابق قد میں اس اضافے سے قد رک جانے کے واقعات میں تقریباً پندرہ فیصد کی کمی واقع ہوتی ہے جو خاصی اہم ہے۔‘

اس تحقیق کے بارے میں بین الاقوامی ادارۂ صحت کے خوراک و صحت کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرانسسکو برانکا نے کہا: ’اس جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ دائمی ناقص غذائیت کے مسئلے کے حل کے لیے کثیر الجہتی لائحۂ عمل اختیار کیا جائے۔ یعنی خوراک کے معیار میں بہتری، بچوں کی بہتر دیکھ بھال، متعدی بیماریوں کا علاج اور گھر کے ماحول میں بہتری۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ساڑھے سولہ کروڑ بچے ناقص افزائش کا شکار ہوتے ہیں، جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے اور بچہ بڑا ہو جائے تو اس کی کارکردگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ناقص غذائیت سے دنیا میں اکتیس لاکھ بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ان میں نصف بچوں کی عمر پانچ برس سے کم ہوتی ہے۔

اسی بارے میں