دنیا کا پہلا بولنے والا روبوٹ خلا میں

Image caption کیروبو کے ڈیزائن کی ترغیب فلم ایسٹرو بوائے کے کردار سے ملی

جاپان نے دنیا کا پہلا بولنے والا روبوٹ خلا میں بھیجا ہے۔ یہ روبوٹ خلاباز کوچی واکاتا کے ساتھی کے فرائض انجام دے گا، جو نومبر میں خلا کا سفر کریں گے۔

كیروبو نام کے اس روبوٹ کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن میں کام کرنے والی خلابازوں کے لیے سامان لے جانے والے راکٹ سے خلا بھیجا گیا۔

13 انچ کے كیروبو نے جاپان کے تانےگاشیما جزائر سے پرواز کی۔ وہ نو اگست کو بین الاقوامی ہوائی سٹیشن پہنچ جائے گا۔

كیروبو ایک تحقیق کا حصہ ہے جس کے تحت یہ دیکھا جانا ہے کہ طویل مدت تک اکیلے رہنے والے لوگوں کو روبوٹ کس طرح جذباتی سہارا دے سکتے ہیں۔

H2B راکٹ کی لانچنگ کو جاپان خلائی ادارے (جاكسا) نے براہِ راست آن لائن نشر کیا۔

اس راکٹ میں کوئی انسان سفر نہیں کر رہا۔ یہ خلائی سٹیشن پر کام کرنے والے چھ مستقل خلابازوں کے لیے پینے کا پانی، کھانا، کپڑے اور کام کے اوزار لے کر گیا ہے۔

کیروبو کا نام ’امید‘ اور ’روبوٹ‘ کے لیے استعمال ہونے والے دو جاپانی الفاظ سے بنایا گیا ہے۔

اس چھوٹے سے روبوٹ کا وزن تقریبا ایک کلوگرام ہے اور یہ کئی طرح کی جسمانی حرکتیں کر سکتا ہے۔ اس کے ڈیزائن کی ترغیب مشہور اینی میٹڈ فلم’ایسٹرو بوائے‘ کے مرکزی کردار سے لی گئی ہے۔

كیروبو جاپانی زبان میں بات کر سکتا ہے۔ وہ واکاتا کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو ریکارڈ بھی رکھے گا۔

كیروبو مشین اور انسان کے درمیان پل کے طور پر کام کرے گا اور کنٹرول روم سے ملنے والے پیغامات خلاباز کو پہنچائے گا۔

واتاکا اس سال خلائی سٹیشن کے کمانڈر کا عہدہ سنبھالیں گے۔

اس کے علاوہ كیروبو کنٹرول روم سے ملنے والے پیغام بھی پہنچائے گا۔

اس روبوٹ کے خالق توموتاكا تاكاہاشی نے بتایا: ’كیروبو واتاکا کے چہرے کو یاد رکھے گا تاکہ جب وہ خلا میں ملیں تو وہ ان کو پہچان سکے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میں امید کرتا ہوں کہ یہ روبوٹ انسان اور مشین کے درمیان پل کا کام کرے گا۔ یا پھر انسان اور انٹرنیٹ کے درمیان اور کبھی کبھی انسانوں کے درمیان بھی۔‘

تاكاہاشی کہتے ہیں کہ سب سے مشکل کام روبوٹ کو خلا میں کام کرنے کے قابل بنانا تھا۔

نو ماہ سے زیادہ وقت تک كیروبو کو قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اس پر درجنوں ٹیسٹ کیے گئے۔

كیروبو کا ایک جڑواں روبوٹ میراتا زمین پر ہے۔ وہ اپنے جڑواں میں خلا میں ہونے والی کسی بھی الیکٹرانک رکاوٹ پر نظر رکھے گا۔

گذشتہ ماہ مہم کے دوران میراتا نے کہا تھا: ’میرے لیے یہ ایک چھوٹا قدم ہے لیکن روبوٹوں کے لیے یہ ایک بڑی چھلانگ ہے۔‘

اسی بارے میں