پرآسائش بیت الخلا پر سائبر حملوں کا خطرہ

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون ایپ سے کنٹرول ہونے والے پرآسائش بیت الخلا پر سائبر حملے ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

اس بیت الخلا کو جاپانی کمپنی لائکسیل نے تیار کیا ہے جسے’مائے ساتس‘ نامی انڈرائیڈ فون ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

خوردہ مارکیٹ میں پانچ ہزار چھ سو چھیاسی امریکی ڈالرز میں فروخت ہونے والے اس بیت الخلا میں خودکار فلش، پاخانے کی جگہ دھونے کے لیے سپرے، موسیقی اور خوشبو کا خراج کے نظام ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس میں یہ خامی ہے کہ کوئی بھی جس کے پاس یہ ایپ ہو اس بیت الخلا کے کسی نظام کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔

ٹرسٹ ویو سپائڈر لیبارٹریز کے سکیورٹی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس بیت الخلا کو بلو ٹوتھ کے راستے ایپ کے ذریعے ہدایت ملتی ہیں لیکن ہرماڈل کا پن کوڈ چار صفر (0000) ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ بیت الاخلا کو کسی بھی سمارٹ فون کے جس پر ’مائے ساتس‘ ایپ ہو ذریعے استعمال میں کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ’حملہ آور آسانی سے ’مائے ساتس‘ ایپ کو ڈاون لوڈ کر کے اس کے ذریعے بیت الخلا کے فلش کو بار بار چلا سکتا ہے جس سے پانی کا ضیاع ہوگا اور مالک کا خرچہ بڑھ جائے گا‘۔

ماہرین کا کہنا ہے ’حملہ آور بیت الخلا کو غیر متوقع پر کھولنے اور بند کرنے، پاخانے کی جگہ دھونے والی سپرے اور ڈرائر کو استعمال کرکے مالک کو پریشان کر سکتا ہے‘۔

ادھر سکیورٹی کے ماہر گراہم کلیولے کا کہنا ہے کہ بلو ٹوتھ کی رینج کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے حملہ آور کو بیت الخلا پر قریب سے حملہ کرنا ہوگا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ ایک مذاق کرنے والا شخص اپنے پڑوسی کے بیت الخلا میں غیر متوقع طور پر پانی بہا کر اور گرم ہوا چھوڑ کر انھیں یہ اس سوچ پر مجبور کر سکتا ہے کہ ان کی بیت الخلا میں ’جن‘ ہیں۔ لیکن یہ سوچنا مشکل ہے کہ کوئی سائبر جرائم پیشہ فرد بیت الخلا کے نظام میں اس خامی کو استعمال کرنے میں دلچسپی رکھے گا‘۔

گراہم کلیولے نے مزید کہا ’اگرچہ یہ خطرہ کچھ زیادہ نقصان دہ نہیں ہے لیکن گھریلو سامان بنانے والی کمپنیوں کو یہ چیزیں بناتے وقت سکیورٹی کو مدِنظر رکھنا چاہیے جس طرح کہہ کمپیوٹر بنانے والی کمپنیاں کرتی ہیں‘۔

اسی بارے میں