پانڈا کے حمل کا اندازہ لگانا مشکل

Image caption امریکہ میں حالیہ تحقیق نے پانڈا کی افزائشِ نسل کے حوالے سے ایک نئی امید اجاگر کی ہے

سائنسدان پچھلی کئی دہایوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا مادہ پانڈا بچے کو جنم دے گی؟

اس عمل میں سب سے بڑی دشواری پانڈا میں مصنوعی حمل کے آثار دکھانے کا رجحان ہے جس کی وجہ سے اس کے رویے میں تبدیلی اور ہارمون میں کوئی حتمی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آتی ہے۔

یہاں تک کہ الٹراساونڈ سکین سے بھی یہ تصدیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ پانڈا کے رحم میں بننے والا بچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے اور دیر سے بڑھنا شروع کرتا ہے۔

ایڈنبرا کے چڑیا گھر میں ماہرین اس مسئلے سے واقف ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹیان ٹیان نامی برطانیہ کی واحد مادہ پانڈا حاملہ ہے یا نہیں۔

چڑیا گھر کے پانڈا پروگرام کی ڈائریکٹر این ویلنٹائن کا کہنا ہے ’پانڈا کی حیاتیات پیچیدہ ہے۔ آپ کے سامنے ایک مصنوعی حمل ہے جس میں ہارمونز کے ذریعے پانڈا میں حمل کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے آپ کو مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے‘۔

امریکہ میں حالیہ تحقیق نے پانڈا کی افزائشِ نسل کے حوالے سے ایک نئی امید پیدا کی ہے اس تحقیق میں سکاٹ لینڈ کی ایک ٹیم بھی شامل ہے۔

ٹینیسی میں میمفس کے چڑیا گھر میں محقیقین نے سوزش سے اثر انداز ہونے والی پروٹین کے لیے ’اکیوٹ فیز پروٹین نامی‘ ایک ٹیسٹ بنایا ہے۔

اس موضوع پر سنہ 2011 میں شائع ہونے والے جریدے پی ایل او ایس ون میں کہا گیا تھا کہ حاملہ پانڈا کے پیشاب میں سیرولیو پلازم نامی پروٹین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ویلنٹائن کے مطابق ’حاملہ ہونے کے بعد پانڈا کے رحم میں سوزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس پروٹین کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ اس کے اثرات کو پیشاب میں دیکھ سکتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا ’وہ پانڈا جس میں حمل کی تصدیق ہو اور وہ حمل کا دورانیہ پورا کرے اس کے ٹیسٹ کا خاکہ اس پانڈا سے مختلف ہو گا جس کا حمل ضائع ہو گیا ہو‘۔

ویلنٹائن کا کہنا ہے کہ ٹیان ٹیان پر جب یہ ٹیسٹ کیا گیا تو اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ حاملہ ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ حمل کا دورانیہ پورا کرے۔

اسی بارے میں