’ٹی بی انسانوں سے حیوانوں میں منتقل ہوئی‘

Image caption جب انسان نے10,000 سال پہلے زراعت کو اپنایا تو ٹی بی انسانوں سے جانوروں میں منتقل ہوئی: تحقیق

سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے تپِ دق یعنی ٹی بی سے متعلق پتہ چلایا ہے کہ یہ بیماری 70,000 ہزار پہلے افریقہ میں بسنے والے انسانوں میں پائی گئی تھی اور پھر یہ بیماری انسانوں سے حیوانوں میں منتقل ہوئی ہے۔

اس نئی تحقیق سے پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ 10,000 سال پہلے ٹی بی افریقی براعظم میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی تھی۔

دنیا میں اب بھی دس لاکھ سے زیادہ افراد سالانہ ٹی بی کے مرض سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش کے مطابق 2011 میں دنیا میں چودہ لاکھ افراد ٹی بی کے مرض سے ہلاک ہوئے تھے۔

ماضی میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق ٹی بی10,000 ہزار سال پہلے افریقہ میں اس وقت جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوئی جب انسانوں نے زراعت کو اپنایا۔

عالمی سائنسدانوں کی ٹیم نے علاقائی اور جنییاتی مواد کے 259 نمونوں کو اکھٹا کر کے ٹی بی کے ارتقا کا انسانی ارتقا سے موازنہ کیا۔

عالمی سائنسدانوں کی ٹیم کے ایک رکن اور سوئٹزرلینڈ کے ٹراپیکل اینڈ پبلک ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر سبیسشین گینوؤ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ٹی بی کے ابتدائی نمونوں سے پتہ چلایا ہے کہ یہ نمونوے 70,000 سال پرانے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک مضبوط مفروضہ پیش کیا ہے کہ جس کےمطابق ٹی بی انسانوں سے شروع ہو کر جانوروں میں منتقل ہوئی ہے۔

اب سائنسدان یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ٹی بی اتنے لمبے عرصے تک انسانوں کے ایک چھوٹے سےگروپ میں کیسے زندہ رہنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

ٹی بی کی بیماری میں ایک ایسی خاصیت ہے جو دوسری بیماریوں میں نہیں پائی جاتی ہے اور شاید یہی خاصیت سائنسدانوں کے سوال کا جواب میہا کرتی ہے۔

ٹی بی کا وائرس ایک لمبے عرصے انسانی جسم میں پنہاں رہ سکتا ہے اور اس کا وقت تک اس کا پتا نہیں چلایا جا سکتا ہے جب تک اس کی علامات سامنے نہ آنا شروع ہو جائیں۔

تحقیق کارروں کا خیال ہے کہ ٹی بی کے مخفی رہنے کی خاصیت ہی شاید اس کے بقا کی وجہ ہے۔

انسانی ارتقا کے دوران جب انسانوں نے شکار کے علاوہ زراعت کو اپنی بقا کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور انسانی آبادی میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو ٹی بی وائرس زیادہ متحرک ہو گیا اور آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ٹی بی پر ریسرچ کی رپورٹ لکھنے والی سائنسدان ڈاکٹر اناکا کومس کا کہنا ہے کہ ٹی بی پر تحقیق کے اگلے مرحلے میں یہ پتہ لگانے کی کوشش ہو گی کہ ٹی بی کا وائرس متحرک اور غیر متحرک کیسے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں