’مصری تہذیب کا آغاز بہت تیزی سے ہوا‘

Image caption مصر کے قدیم فرعونوں کے زمانے کا تعین خاصا متنازع ہے

برطانیہ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے معلوم کیا ہے کہ مصر میں الگ تھلگ کسانوں کے مجموعے سے بادشاہت تک کا سفر پہلے سے لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے طے ہوا تھا۔

سائنس دانوں نے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ اور کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے معلوم کیا کہ مصر کا سب سے پہلا فرعون حور عحا 3100 قبل مسیح میں اقتدار میں آیا تھا۔

یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دا رائل سوسائٹی نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے سربراہ یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے شعبۂ آثارِ قدیمہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مائیکل ڈی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’قدیم دنیا میں مصری تہذیب کا قیام بہت منفرد واقعہ تھا۔ یہ ایک علاقائی ریاست تھی، جو اسی طرح سے قائم ہوئی جس طرح آج کی قومیں وجود میں آتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’ہم سجھتے ہیں کہ اس ملک کے قیام کے عوامل کی تاریخ کے بارے میں خلا موجود تھا جسے پر کرنے کی ضرورت تھی۔‘

اب تک مصر کی تاریخ کے قدیم ترین دور کی ٹائم لائن محض اندازوں پر مبنی تھی۔

اس قدیم دور کے کوئی تحریری شواہد موجود نہیں تھے اس لیے اس عہد کی توقیت کے لیے قبرستانوں سے ملنے والے برتنوں کی ساخت سے رجوع کیا جاتا تھا۔

تاہم اب سائنس دانوں نے بالوں، ہڈیوں اور پودوں پر ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کا طریقہ آزمایا، جس کے ساتھ ساتھ آثارِ قدیمہ سے ملنے والے شواہد اور کمپیوٹر ماڈل استعمال کر کے قدیم ریاست کے معرضِ وجود میں آنے کے دور کی نشان دہی کی۔

تاریخ کی کتابوں میں بتایا جاتا تھا کہ مصر میں چار ہزار قبلِ مسیح کے زمانے میں قبل از شاہی خاندان دور میں لوگوں کے گروہوں نے دریائے نیل کے گرد جمع ہو کر کاشت کاری شروع کر دی تھی۔ تاہم جدید سائنسی تجزیے سے پتا چلا ہے کہ یہ عمل 3700 تا 3600 قبلِ مسیح میں شروع ہوا۔

سائنس دانوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ صرف چند صدیوں کے اندر اندر یعنی 3100 قبلِ مسیح میں معاشرہ اس قدر بدل گیا کہ اس پر ایک فرعون کی حکمرانی شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر ڈی نے بی بی سی کو بتایا ’یہ دورانیۂ وقت پہلے لگائے گئے اندازوں سے کم ہے، کوئی تین سو سے چار سو سال کم۔ مصر ایک ایسی ریاست تھی جس کی نشو و نما بڑی تیزی سے ہوئی۔ اس دوران معاشرے میں بےپناہ سماجی تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔

’اگر آپ اس کا تقابل دوسری تہذیبوں سے کریں تو بڑی دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ مثلاً میسوپوٹیمیا (قدیم عراقی تہذیب) میں کئی ہزار برسوں تک زراعت ہوتی رہی اور اس کے بعد کہیں جا کر ریاست وجود میں آئی۔‘

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ مصر کا سب سے پہلا فرعون عحا اس وقت اقتدار میں آیا جب ایک اور نمایاں رہنما نارمر نے ملک کو متحد کیا۔

اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف یارک کے شعبۂ آثارِ قدیم کی پروفیسر جواین فلیچر نے کہا ’یہ بہت اہم تحقیق ہے جس میں مصر کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصر کے قدیم حکمرانوں کے زمانے کے تعین کے لیے یہ تحقیق بےحد اہمیت کی حامل ہے۔‘

اسی بارے میں