سگریٹ نوشوں پر وارننگ کا کم اثر

Image caption ’ان خطرناک تصاویر کا سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں اور تجربے کے لیے سگریٹ نوشی کرنے والوں پر اثر پڑا‘

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ کے ڈبے پر شائع ہونے والی خطرناک تصاویر کا سگریٹ نوش نوجوانوں پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔

برطانیہ نے 2008 میں سگریٹ کے ڈبے پر مرض زدہ پھیپھڑوں اور دل کے آپریشن کی تصاویر متعارف کروائی تھیں۔ لیکن سٹرلنگ یونیورسٹی کی طرف سے اٹھائیس سو بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان تصاویر کا 11 سے 16 سال کے نوجوانوں پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کے حوالے سے تقریباً کوئی اثر نہیں ہوتا۔

تاہم ان خطرناک تصاویر کا سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں اور تجربے کے لیے سگریٹ نوشی کرنے والوں پر اثر ہوا تھا۔

یہ تحقیق ٹوبیکو کنٹرول جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں ان تصاویر کا متعارف ہونے سے پہلے اور اس کے بعد نوجوانوں کے لیے ٹوبیکو پالیسی سروے کے ڈیٹا کو جانچا گیا۔

جن 2800 بچوں سے سوالات پوچھے گئے تھے ان میں ہر دس میں سے ایک بچہ سگریٹ نوش کرتا تھا جبکہ باقی یا تو سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے یا پھر تجربے کے طور پر سگریٹ نوشی کرتے تھے۔

سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں اور تجرباتی سگریٹ نوش نوجوانوں کی بڑی تعداد نے یہ تصاویر دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ تنبیہہ اتنی مؤثر ہے کہ اس کی وجہ سے وہ سگریٹ نوشی بند کر سکتے ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ محقق ڈاکٹر کرافرڈ موڈی نے کہا کہ یہ مایوس کن بات ہے کہ ان تصاویر کا سگریٹ نوشوں پر کوئی اثر نہیں ہوا لیکن سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں اور تجرباتی سگریٹ نوشوں پر اس کا اثر ایک مثبت بات ہے۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ سگریٹ نوشی کے خلاف وارننگ دینے والی تصاویر اور تحریر کو 2003 اور 2008 میں بالترتیب متعارف کروانے کے بعد تبدیل نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے خطرہ ہے کہ لوگ اس سے بے حس ہو گئے ہوں۔

انھوں نے کہا ’دوسرے ممالک باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کے خلاف وارننگز کو تبدیل کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اگر ہم اسے تبدیل کرتے رہیں تو اس کا زیادہ اثر ہوگا۔‘

اسی بارے میں