دس فیصد ہلاکتیں پھیھڑوں کی بیماری سے

Image caption نظامِ تنفس کی بیماریوں پر آنے والی کل سماجی اور معاشی لاگت کا آدھا حصہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہے

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں ہونے والی تمام اموات میں سے دس فیصد کا باعث پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث ہوتی ہیں اور اس کا بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے۔

دوسری جانب ایک برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں کی بیماری سے ہر چار میں سے ایک شخص ہلاک ہوتا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پھیپھڑوں کی بیماری کی روک تھام، علاج اور تحقیق کو ترجیح نہیں دی جاتی۔

عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق یورپ میں پھیپھڑوں کی چار بڑی مہلک بیماریاں پائی جاتی ہیں، نچلے نظامِ تنفس کے انفیکشن (مثلاً نمونیا)، سی او پی ڈی (پھیپھڑوں کی مزمن بیماری)، پھیپھڑوں کا سرطان اور تپِ دق (ٹی بی)، جو ہر دس میں سے ایک ہلاکت کا باعث بنتی ہیں۔

البتہ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے 28 ملکوں میں یہ بیماریاں ہر آٹھ میں سے ایک موت کا باعث بنتی ہیں۔

صرف بیلجیئم، ہنگری، ڈنمارک اور آئرلینڈ ایسے ملک ہیں جہاں برطانیہ سے زیادہ لوگ پھیپھڑوں کی بیماریوں کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں۔

فن لینڈ اور سویڈن میں ان امراض کے باعث ہونے والی اموات کی شرح سب سے کم ہے۔

رپورٹ کے اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نظامِ تنفس کی بیماریوں پر آنے والی کل سماجی اور معاشی لاگت کا آدھا حصہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ تمباکو نوشی ’یورپ میں صحت کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے،‘ اور تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے سرطان، سی او پی ڈی اور دل کی رگوں کی بیماریوں کی ایسی سب سے بڑی وجہ ہے جس سے بچا جا سکتا ہے۔

2000 سے برطانیہ کا ادارۂ صحت این ایچ ایس لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے مفت مشورے اور کونسلنگ فراہم کر رہا ہے۔

اسی بارے میں