چاند کے لیے ناسا کا ایک اور مشن روانہ

Image caption لادی (لونر ایٹماس فیئر اینڈ ڈسٹ انوائرنمنٹ اکسپلورر) بنیادی طور پر تین کام کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے حکام کا کہنا ہے ناسا نے چاند پر ایک اور خلائی مشن روانہ کرد یا ہے۔

اس بغیر انسان والے خلائی مشن کو لاڈی (ایل اے ڈی ای ای ) کا نام دیا گيا ہے اور اسے سنیچر کی صبح امریکہ کے شمالی ساحل کے ویلپ راکٹ فیسیلیٹی سےگرینچ وقت کے مطابق سنیچر کی صبح 27۔3 منٹ پر روانہ کیا گيا۔

28 کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت والے اس مشن کا مقصد چاند کی فضا کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چاند پر پھیلے گرد و غبار کی عجیب و غریب حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ چاند پر موجود گرد و غبار بعض اوقات اپنے آپ ہی سطح سے بلند ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ لاڈی وہاں ایک لیزر کمیونیکیشن نظام کی جانچ بھی کرے گا، جسے ناسا اپنے مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ لیزر میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ڈیٹا کو روایتی ریڈیو کنکشن کی شرح سے بھیج سکتا ہے۔

لاڈی (لونر ایٹماس فیئر اینڈ ڈسٹ انوائرنمنٹ اکسپلورر) مشن کے سائنسدانوں میں سے ایک سارہ نوبل کا کہنا ہے کہ یہ مشن بہت سے لوگوں کو حیرت زدہ کر دے گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ چاند پر کوئی فضا نہیں ہے۔

انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہاں فضا موجود ہے اور واقعتاۙ ہے، لیکن خاصی باریک ہے۔‘

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’یہ اس قدر باریک ہے کہ اس میں مالیکیول بہت کم اور دور دور ہیں، اس قدر دور کہ وہ ایک دوسرے سے نہیں مل پاتے اور آپس میں کبھی نہیں ٹکراتے۔‘

Image caption لاڈی کا وزن 383 کلو گرام ہے اور اس کی اونچائی 4۔2 میٹر ہے جبکہ یہ 8۔1 میٹر چوڑا ہے اور پوری طرح سے ایندھن سے لیس ہے

’اسے ہم اکزوسفیئر کہے سکتے ہیں۔ زمین کا بھی اپنا اکزوسفیئر ہے لیکن اس کے لیے آپ کو بین الاقوامی سپیس سٹیشن مدار کے پار جانا ہوگا جہاں یہ واقع ہے لیکن چاند پر یہ سطح پر ہی موجود ہے۔‘

اکزوسفیئر کسی سیارے کے کرۂ ہوائی کا احاطہ کیے اس کا باہری حصہ ہوتا ہے اور اس کے اپنے عوامل ہوتے ہیں۔

سائنسدان اسے سمجھنے میں اس لیے دلچسپی رکھتے ہیں کہ یہ فضائی حالات نظام شمسی کے زیادہ تر حصوں میں پائے جاتے ہیں یا بہ الفاظ دیگر یہ نظام شمسی کا عمومی ماحول ہے۔

سیارہ عطارد پر ایسی ہی فضا پائي جاتی ہے اور دوسرے بڑے اور دیوقامت سیاروں کے علاوہ بڑے بڑے شہابیوں کے گرد بھی ایسی ہی فضا ہوتی ہے۔

کئی دہائیوں تک چاند پر ہوا کی غیر موجودگی میں غبار اٹھنے کے عمل سے سائنسداں خاصے حیران رہے ہیں۔ اپالو مشن کے خلابازوں نے یہ خبر دی تھی کہ انھوں نے چاند کے افق پر سورج طلوع ہونے سے ذرا قبل ایک دھندلی چمک دیکھی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ چمک اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سورج کی بالائے بنفشی روشنی چاند کی سطح پر موجود عناصر کو برقی طور پر چارج کردیتی ہے تو یہ عناصر چارج ہو جانے کے سب چاند کی سطح سے اوپر اٹھتے ہیں۔

لاڈی کے ریموٹ سنسنگ اور نمونے جمع کر کے اسے جانچنے کے عمل اس خیال کی تصدیق ہو سکتی ہے اور اس پر مزید روشنی پڑ سکتی ہے۔

یہ مشن آئندہ چھ ماہ تک چاند پر اپنا کام کرتا رہے گا۔

لاڈی کا وزن 383 کلو گرام ہے اور اس کی اونچائی 4۔2 میٹر ہے جبکہ یہ 8۔1 میٹر چوڑا ہے اور پوری طرح سے ایندھن سے لیس ہے۔

اسے کم لاگت والے عناصر سے تیار کیا گيا ہے جس کا دوسرے فلکیاتی مشن میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

اس میں کل سو دن تک مشاہدہ کیا جائے گا لیکن یہ مشن چھ ماہ پر مبنی ہے۔ جب لاڈی کا ایندھن ختم ہو جائے گا تو یہ چاند پر گر جائے گا۔

اسی بارے میں