’ایک چوتھائی مردوں کا ریپ کا اقرار‘

Image caption دہلی میں گذشتہ سال گینگ ریپ کے ایک واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا

خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ایشیا کے بعض حصوں میں تقریباً ایک چوتھائی مردوں نے کم از کم ایک ریپ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کا ریپ زیادہ عام ہے، لیکن ایک میں سے دس نے تسلیم کیا ہے انھوں نے کسی ایسی خاتون کو ریپ کیا ہے جو ان کی شریکِ حیات نہیں ہے۔

اس سروے میں چھ ملکوں کے دس ہزار مردوں نے حصہ لیا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا سروے ہے جس میں عورتوں کے خلاف تشدد کی نوعیت اور وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

جنھوں نے ریپ کا اعتراف کیا ان میں سے نصف نے کہا کہ انھوں نے ایک سے زیادہ بار ریپ کا ارتکاب کیا ہے۔

ریپ کی شرح مختلف ملکوں میں مختلف تھی۔

پاپوا نیو گنی میں ہر دس میں سے چھ نے اعتراف کیا کہ انھوں نے کسی عورت کو جنسی عمل پر مجبور کیا۔

بنگلہ دیش اور سری لنکا اس کی شرح کم تھی جہاں دس میں سے ایک کم مرد نے جنسی زیادتی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

کمبوڈیا، چین اور انڈونیشیا میں دس میں سے ایک تا پانچ مردوں نے ریپ کا اعتراف کیا۔

اس تحقیق کا کچھ حصہ برطانوی طبی جریدے لینسٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہوا ہے۔

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس سے تمام ایشیا کی نمائندگی نہیں کرتی، لیکن سروے میں حصہ لینے والے افراد زیرِ تحقیق ملکوں کی آبادی کا اچھا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں مردوں سے اس قسم کے سوال پوچھے گئے تھے:

کیا آپ نے کبھی اپنے پارٹنر سے اس وقت جنسی عمل کیا جب آپ سمجھتے تھے کہ وہ آپ کی پارٹنر یا بیوی ہونے کی حیثیت سے انکار نہیں کر سکے گی؟

کیا آپ نے کسی ایسی لڑکی یا عورت سے سیکس کیا ہے جو نشے میں اس قدر دھت تھی کہ انکار نہیں کر سکتی تھی۔

ان کے جوابات کمپیوٹر پر خلوت میں ریکارڈ کیے گئے۔

جن مردوں نے ریپ کا اعتراف کیا ان میں سے تین چوتھائی نے اعتراف کیا کہ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ یہ ان کا ’جنسی حق‘ تھا۔

تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر ایما فولو کہتی ہیں: ’ان کا خیال ہے کہ ان کے پاس جنس کا حق حاصل ہے چاہے اس میں عورت کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری سب سے عام قسم تفریح کی خاطر کیا جانے والا ریپ ہے، جو محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ بوریت کا شکار ہوتے ہیں۔‘

اس کے بعد تیسری قسم سزا کی خاطر کیا جانے والا ریپ ہے۔

وہ مرد جو خود بچپن میں جنسی تشدد کا نشانہ بنے ہیں ان کے بارے میں زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ ریپ کا ارتکاب کریں۔

اسی بارے میں