کافی کا استعمال، رحم کے کینسر کا خطرہ کم

Image caption رحم کے کینسر کے حوالے سے سال دو ہزار سات کے بعد پہلی بار یہ تحقیق کی گئی ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق بچہ دانی یا رحم کے کینسر کو ورزش، خوراک اور ممکنہ طور پر کافی کے استعمال سے کم کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق برطانیہ میں رحم کے کینسر کے سالانہ کیسز کا نصف 3700 کے قریب بنتے ہیں، ان سے خود کو دبلا اور متحرک رکھ کر بچا جا سکتا ہے۔

چھاتی کا سرطان: خطرہ کتنا ہے؟

امپیریل کالج لندن کے محققین کے مطابق خواتین روزانہ تقریباً تیس منٹ کی ورزش اور صحت مند خوراک سے خود کو رحم کے کینسر سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی رپورٹ کے مطابق کافی کے استعمال سے بھی کینسر کے مرض کے لاحق ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد ناکافی ہیں کہ لوگوں سے یہ کہا جائے کہ وہ کینسر سے بچنے کے لیے کافی پییں۔

برطانیہ میں خواتین رحم کے کینسر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

رحم کے کینسر کے بارے میں 2007 کے بعد کی جانے والی پہلی عالمی تحقیق میں امپریل کالج لندن کے محققین نے سائنسی بنیادوں پر رحم کے کینسر سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے اور اس کے ساتھ خواتین کی خوراک، جسمانی سرگرمیوں اور وزن کا بھی جائزہ لیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق سالانہ 3700 کیسز میں خواتین ہفتے میں پانچ دن 38 منٹ ورزش کر کے اور صحت مند وزن برقرار رکھ کر کینسر کے مرض سے بچ سکتی ہیں۔

برطانیہ میں صرف 56 فیصد خواتین ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق روزانہ تیس منٹ ورزش کرتی ہیں اور صرف 39 فیصد کا وزن صحت مندانہ ہے۔

اس تحقیق کی سربراہ اور امپیریل کالج کی ڈاکٹر ٹرسیا نورٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر آپ جسمانی طور پر متحرک ہیں اور آپ کے جسم کا وزن اضافی نہیں تو اس صورت میں آپ رحم کے کینسر کا مرض لاحق ہونے کے خطرے کو کم کر سکتی ہیں اور عام زندگی میں بھی زیادہ صحت مند رہتی ہیں‘۔

ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ کی ڈاکٹر کیرن سیڈلر کے مطابق’ کافی کے استعمال سے متعلق حاصل ہونے والے حقائق بہت دلچسپ ہیں، کافی کینسر کے مرض کے خطرے کو کم کر دیتی ہے اس تعلق کو زیادہ موثر ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں