ارجنٹائن میں 19 سالہ ’سپر ہیکر‘ گرفتار

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ انیس سالہ ’سپر ہیکر‘ اپنے والد کے ساتھ بیونس آئرس میں رہائش پذیر تھا

ارجنٹائن میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک انیس سالہ لڑکے کو گرفتار کیا ہے جو کمپیوٹر ہیک کر کے ہزاروں ڈالر چوری کر رہا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ ’سپر ہیکر‘ ہیکرز کے گروہ کا سرغنہ تھا۔

یہ شخص بیونس آئرس میں اپنے بیڈ روم سے کام کیا کرتا تھا اور ماہانہ پچاس ہزار ڈالر کماتا تھا۔

پولیس نے اس شخص کو پکڑنے کے لیے پورے محلے کی بجلی بند کی تاکہ وہ اپنے ڈیٹا کو ختم نہ کر سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو گرفتار کرنے میں ایک سال لگا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انیس سالہ ’سپر ہیکر‘ اپنے والد کے ساتھ بیونس آئرس میں رہائش پذیر تھا۔

تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن نے ارجنٹائن کے اخبار کلیرن کو بتایا ’ہمارے خیال میں اس شخص اور اس کے بھائی نے یہ کام شروع کیا اور اس کے والدین نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ رقم کہاں سے آ رہی ہے۔‘

پولیس حکام کے مطابق اس شخص کے بیڈ روم سے نہایت عمدہ کمپیوٹرز برآمد کیے گئے ہیں۔

انیس سالہ ’سپر ہیکر‘ پر تین جرائم کے الزامات ہیں اور اگر یہ تینوں جرائم ثابت ہو جاتے ہیں تو اس کو دس سال سے زیادہ کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں