’خودکشی کرنے والی لڑکی کی تصویر پر فیس بک کی معافی‘

Image caption فیس بک نے اشتہار میں لڑکی کی تصویر استمعال کرنے والی کمپنی کو سائٹ پر بند کر دیا ہے

سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ فیس بک نے ڈیٹنگ سے متعلق اشتہار شائع کرنے پر معافی مانگی ہے جس میں خودکشی کرنے والی سترہ سالہ لڑکی کو دکھایا گیا تھا۔

کینیڈا کے صوبے نووا سکوشیا کی رہائشی 17 سالہ ریہتایہ پارسنز نے رواں سال اپریل میں اس وقت خودکشی کی جب ایک علیٰحدہ شائع ہونے والی تصویر میں مبینہ طور پر چار لڑکوں کواس سے جنسی زیادتی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

فیس بک اکاؤنٹس تک بغیر پاس ورڈ رسائی

اس لڑکی کی ماں کے مطابق اس وقت تصویر شائع ہونے کے بعد پارسنز کو بہت زیادہ تنگ کیا گیا جس پر اس کی بیٹی نے خودکشی کر لی۔

بدھ کو پارسنز کے والد نے بتایا کہ تصویر شائع ہونے کے بعد ان کی بیٹی زندگی سے بیزار ہو گئی تھی۔

فیس بک کے مطابق اس واقعے میں ملوث ویب سائٹ پر پابندی لگا دی ہے۔

فیس بک کے ایک ترجمان کے مطابق’یہ ایک انتہائی بدقسمت مثال ہے جس میں ایک اشتہاری کمپنی نے انٹرنیٹ کے لیے ایک تصویر حاصل کی تاکہ اس کو اشتہار میں استعمال کیا جا سکے‘۔

’یہ ہماری پالیسی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ہم نے اس اشتہار کو ہمیشہ کے لیے ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے اور اشتہاری کمپنی کا اکاؤنٹ بند کر دیا ہے‘۔

ترجمان کے مطابق’ جس کو اس واقعے سے تکلیف پہنچی ہے ہم اس سے معافی مانگتے ہیں‘۔

کمپنی کی اشتہاری مہم کا عنوان تھا’کینیڈا میں اپنا پیار تلاش کریں‘

یہ ویب سائٹ اب آن لائن نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس واقعے پر اس کے مالک کا ردعمل معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

پارسنز کی والدہ کے مطابق اشتہار میں استعمال کی جانے والی تصویر اس وقت کھینچی گئی تھی جب ان کی بیٹی نے ایک تقریب میں شرکت کی تھی اور اس دوران بہت زیادہ شراب نوشی کرنے کے بعد ہوش میں نہیں رہیں اور ان سے جنسی زیادتی کی گئی۔

اس واقعے کی تصویر حادثاتی طور پر آن لائن جاری ہو گئی۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ نے ٹی وی چینل سی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’لوگوں نے اسے ہراساں کیا، جن لڑکوں کو وہ جانتی نہیں تھی انہوں نے اسے پیغامات بھیجنے شروع کر دیے کہ ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرے اور میں اس کو روک نہیں سکی‘۔

اس کے بعد عدالت میں دو نوجوان پر پورنو گرافی کا الزام عائد کیا گیا اور توقع ہے کہ یہ دونوں جمعرات کو عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے رواں ہفتے کے شروع میں اشتہاری ادارے کو خبردار کیا تھا اور اپنے ایک بلاگ میں اس واقعے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

نووا سکوشیا کی حکومت نے اس واقعے کے بعد ایک خصوصی پولیس یونٹ قائم کیا ہے تاکہ انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو روکا جا سکے۔

اسی بارے میں