’غصے پر مبنی آن لائن پیغامات زیادہ پھیلتے ہیں‘

ایک نئی تحقیق کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر خوشی کے برعکس غصے کے جذبات پر مبنی پیغامات بہت تیزی سے پھیلتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر آن لائن جذبات کے بارے میں ایک ٹیم نے چین کی سب سے بڑی مائیکرو بلاگنگ سائٹ وائیبو پر صارفین کے پیغامات کا جائزہ لیا اور اسے بعد میں غصہ، اداسی، بیزاری اور خوشی جیسے جذبات میں تقسیم کیا۔

سماجی رابطوں کے پرخطر اثرات

فیس بک سے متاثر، بیٹی کا نام ’لائک‘

تحقیق میں 2010 کے دوران دو لاکھ صارفین کے سات کروڑ پیغامات کا چھ ماہ تک جائزہ لیا گیا اور عنوانات کے اعتبار سے یہ دیکھا گیا کہ کتنے پیغامات کو ری ٹویٹ کیا جاتا ہے۔ یہ تحقیق آکسو پری پرنٹ سرور پر شائع ہوئی ہے۔

اس ٹیم کے جائزے کے مطابق ویب سائٹ پر موجود دیگر صارفین پر غصے پر مبنی پیغامات کا زیادہ اثر ہوتا ہے اور ایسے پیغامات کا زیادہ تیزی سے تبادلہ ہوتا ہے۔

تاہم دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ غصیلے صارفین کے دوستوں کا مزاج بھی ان سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔

بینجگ کی بہینگ یونیورسٹی کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر کس طرح معلومات دوسروں کو متاثر کرتے ہوئے پھیلتی ہیں۔

تحقیق میں شامل پروفیسر کے ہؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’وائیبو کے صارفین میں اپنے دوستوں کے غصے سے بھرے پیغامات کو پھیلانے کا رجحان زیادہ ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے‘۔

’یہ پیغامات چین کے اندر سماجی مسائل اور چین کے دیگر مغربی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں‘۔

چین میں وائیبو ویب سائٹ ملک میں سماجی مسائل کے بارے میں بات کرنے کا بڑا ذریعہ ہے اور کسی معلومات کو دوبارہ پوسٹ کرنا یا اس کا تبادلہ کرنا اپنی رائے کو بیان کرنے سے متعلق ایک’علاماتی عمل‘ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی شہر بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرسٹو ویلسن اس تحقیق میں شامل نہیں تھے تاہم انہوں نے تحقیق کے نتائج سے اختلاف کرتے ہوئے کہا: ’محققین نے دکھایا کہ ایک خاص قسم کا جذباتی برتاؤ کرنے والے لوگ ایک گروپ کی شکل اختیار کر جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ معومات اس مخصوص گروپ سے باہر بھی شیئر کی جاتی ہیں اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے‘۔

’یہ دعویٰ بہت ہی مضبوط ہے کیونکہ اس تحقیق میں یہ بالکل معلوم ہوتا ہے کہ وہ صارفین جو غصے سے بھرے پیغامات پوسٹ کرتے ہیں وہ ایک گروپ کی شکل اختیار کر جاتے ہیں لیکن اس سے لازمی نہیں کہ معلومات کے تبادلے کا اندازہ لگایا جا سکے۔

اسی بارے میں