عالمی ماحول بدلنے والے آتش فشاں کا سراغ

Image caption اس آتش فشاں کا اب نام و نشان نہیں ہے اور اس کی جگہ صرف ایک بہت بڑی جھیل ہے

سائنسدانوں کے خیال میں انہوں نے اس آتش فشاں کا سراغ لگا لیا ہے جس کے باعث سنہ 1257 میں عالمی ماحول میں تبدیلی آئی تھی۔

اس آتش فشاں سے اخراج اتنا زیادہ تھا کہ اس کے اثرات قطبِ شمالی اور قطب جنوبی میں برف پر بھی ملے ہیں۔

قدیم یورپی کتابوں میں اچانک موسم ٹھنڈا ہونے اور فصلیں نہ اگنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا آتش فشاں دریافت

عظیم آتش فشاں کی عمر کتنی ہوتی ہے؟

سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے پی این اے ایس جرنل میں لکھا ہے کہ تیرہویں صدی میں بھاری اخراج کی ذمہ دار آتش فشاں سامالس آتش فشاں تھا جو انڈونیشیا کے لمبوک جزیرے میں واقع تھا۔

اس آتش فشاں کا اب نام و نشان نہیں ہے اور اس کی جگہ صرف ایک بہت بڑی جھیل ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر کلائیو اوپنہائیمر نے بی بی سی کو بتایا ’اس بارے میں شواہد بہت ٹھوس ہیں۔‘

فرانس سے تعلق رکھنے والے اس ٹیم کے ایک اور رکن پروفیسر فرینک لوائن کا کہنا ہے ’ہم نے اس بارے بالکل اسی طرح تحقیق کی جس طرح جرائم کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ اس واقعے میں کون ملوث تھا لیکن ہمیں یہ معلوم تھا کہ یہ واقعہ کب ہوا اور برف سے ملنے والے شواہد ہمارے پاس تھے۔‘

اس سے قبل سنہ 1257 کے اخراج کو میکسکو، ایکواڈور اور نیوزی لینڈ کے آتش فشاؤں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں آتش فشاں سے پھیلنے والے کیمیائی اجزا قطب شمالی اور قطبِ جنوبی سے ملنے والے اجزا سے مختلف ہیں، اور صرف سامالس آتش فشاں ہی سے ان کے شواہد جوڑے جاسکتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ لمبوک میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس آتش فشاں سے 40 مکعب کلومیٹر کے پتھر اور راکھ کا اخراج ہوا تھا اور اندازے کے مطابق راکھ کے بادل 40 کلومیٹر بلند تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس آتش فشاں سے اخراج اتنا ہی بڑا ہونا لازمی ہے کیونکہ تبھی اس کے اجزا قطب شمالی اور جنوبی تک پہنچ سکتے ہیں۔

قدیم یورپی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1258 کے موسم گرما کے بعد اچانک موسم تبدیل ہوا اور سردی کی شدید لہر آئی اور مسلسل بارش ہوئی جس کے باعث سیلاب آئے۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ نے حال ہی میں لندن میں ہزاروں افراد کی اجتماعی قبروں کی تاریخ بھی سنہ 1258 بتائی ہے۔

پروفیسر لیوائن کا کہنا ہے ’ہم آتش فشاں اور لندن میں اجتماعی قبروں کے درمیان ربط کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن یقیناً لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔‘

قطب جنوبی اور شمالی میں 1809 میں اسی قسم کے ایک واقعے کے بھی شواہد ملے ہیں لیکن سامالس کی طرح اس کی نشاندہی کرنا بھی بہت مشکل ہے۔

اسی بارے میں