’منشیات کے خلاف جنگ ناکام ہو رہی ہے‘

Image caption عالمی پیمانے پر منشیات کی قیمت میں گراوٹ آئی ہے اور اس کی خالصیت میں اضافہ ہوا ہے

ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ بیس سال کے مقابلے میں اب منشیات عالمی پیمانے پر نسبتا زیادہ سستی اور خالص شکل میں دستیاب ہیں۔

منشیات اور غیر قانونی ادویہ کے متعلق پالیسی کی عالمی تنظیم ’انٹرنیشنل سنٹر فار سائنس ان ڈرگ پالیسی‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ غیرقانونی ڈرگز کے خلاف جنگ ناکام ہو گئی ہے۔

برطانوی میڈیکل جرنل اوپن میں شائع رپورٹ نے اس معاملے میں حکومتی تعاون کے تحت چلنے والے سات ڈرگز کے متعلق نگرانی کے عالمی نظام کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ تیار کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ یہ وقت وہ ہے جب منشیات کے استعمال کو مجرمانہ انصاف کے مسئلے کے بجائے صحت عامہ کے مسئلے کے تحت دیکھا جائے۔

جن سات غیر قانونی منشیات پر نگرانی رکھنے والے عالمی نظاموں کے اعدادو شمار پر تحقیق کی گئی ہے ان میں بھنگ، کوکین، افیون اور ہیروئن کی قیمت اور خالصیت کے 10 سال کے اعدادوشمار موجود تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1990 اور 2010 کے دوران منشیات کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ان کے خالص ہونے اور قوت میں اضافہ ہوا ہے۔

مثال کے طور پر سنہ 1990 اور 2010 کے دوران یورپ میں افیون اور کوکین کی اوسط قیمت میں بالترتیب 74 اور 51 فی صد کی کمی واقع ہوئی۔ منشیات کی خالصیت اور یورپ کی مہنگائی کی شرح کو خاطر میں رکھتے ہوئے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ سنہ 1990 کے بعد سے دنیا کے مختلف حصوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوکین، ہیروئن اور گانجے کے پکڑے جانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

زیادہ تر ممالک میں منشیات کی روک تھام کے اداروں کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ان کی فراہمی پر پابندی لگائیں اور سخت قوانین بنا کر روک تھام کے دوسرے طریقے بھی اپنائیں۔

Image caption رپورٹ کے مطابق گزشتہ بیس سال کے دوران یورپ میں افیون کی قیمت میں 74 فی صد کمی آئی ہے

رپورٹ نے آخر میں کہا ہے کہ ’نتائج سے ظاہر ہے کہ عالمی پیمانے پر غیرقانونی ڈرگ مارکیٹ پر قابو پانے کے لیے کوششوں میں اضافے کی ضرورت ہے جس میں ابھی تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام رہے ہیں۔‘

اس رپورٹ کے شریک مصنف اور سنٹر کے سائنٹفک سربراہ ڈاکٹر ایوان وڈ نے کہا: ’ہمیں ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے سماج کی صحت اور تحفظ کو اولیت دیتی ہیں اور منشیات کے استعمال کو مجرمانہ عدالتی مسئلے کے بجائے صحت عامہ کا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ بات واضح ہے کہ منشیات کی فراہمی کی روک تھام کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں ایسے میں اس بات کی ضرورت ہے کہ نشے کی لت سے نجات دلانے اور منشیات کے استعمال کو کم کرنے کے دوسرے ذرائع کو اپنایا جائے اور اس میں اضافہ کیا جائے۔‘

اسی بارے میں