’چہل قدمی سے چھاتی کے سرطان میں کمی‘

Image caption یہ تحقیق سرطان سے متعلق ایپی ڈیمیالوجی، بائیو مارکرز اینڈ پروینشن نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی والی کرنے والی ادھیڑ عمر خواتین میں چھاتی کے سرطان میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق میں تہتر ہزار خواتین کا سترہ سال تک مشاہدہ کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ کہ ہفتے میں سات گھنٹے چہل قدمی کرنے والی خواتین میں چھاتی کے سرطان کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

امریکی کینسر سوسائٹی کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا کہ چھاتی کے سرطان میں کمی کا تعلق چہل قدمی سے ہو۔

ذیابطیس سے چھاتی کے سرطان کا زیادہ امکان

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ رہنے سہنے کے طور طریقے چھاتی کے سرطان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ریمبرلرز نامی خیراتی ادارے میں کیے جانے والے حالیہ عوامی جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر ہفتے ایک گھنٹہ چہل قدمی نہ کرنے لیکن متحرک رہنے والے ایک چوتھائی افراد میں بھی سرطان ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق سرطان سے متعلق ایپی ڈیمیالوجی، بائیو مارکرز اینڈ پروینشن نامی جریدے میں شائع ہو ئی ہے۔

امریکی کینسر سوسائٹی کی ٹیم نے خواتین میں چھاتی کے سرطان کی تحقیق کرنے کے لیے پچاس سے چوہہتر سال کی 97,785 خواتین کو سنہ 1992 سے 1993 کے دوران بھرتی کیا تھا جن میں سے 73,615 پر تحقیق کی گئی۔

ان خواتین کو ان کی صحت کے بارے میں ایک سوالنامہ پُر کرنے کے لیے کہا گیا جس میں ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ چہل قدمی ، سوئمنگ کرنے، ورزش کرنے اور ٹیلی ویژن دیکھنے میں کتنا وقت صرف کرتی ہیں۔

ان خواتین نے یہ سوالنامہ سنہ 1997 اور 2007 کے دوران دو وقفوں میں پُر کیا۔

ان خواتین میں سے 47 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے لیے چہل قدمی ہی تفریح کا ذریعہ ہے جبکہ ہر ہفتے سات گھنٹے تک چہل قدمی کرنے والی 14 فیصد خواتین میں چھاتی کے سرطان میں کمی ہوئی۔

امریکی کینسر سوسائٹی کے سینئیر ڈاکٹر ایلفا پاٹیل کا کہنا ہے کہ چہل قدمی کرنا ایک اچھی عادت ہے اور اڈھیر عمر خواتین میں جسمانی ورزش کی عادت بڑھانے میں مفید ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ایسی خواتین جو روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کرتی ہیں ان کو چھاتی کے سرطان ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

چھاتی کے سرطان کی مہم کی چیف ایگزیکٹو ڈیلتھ مارگن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کو مذید ثابت کرتی ہے کہ ہمارے رہنے سہنے کے طور طریقے چھاتی کے سرطان میں کمی پر اثر انداز ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں