انسانی دماغ کو سمجھنے کے لیے ایک ارب پاؤنڈ کا منصوبہ

Image caption سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران پر مشتمل ہے

انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ایک ارب پونڈ کی لاگت سے یورپی یونین کے پراجیکٹ کا آغاز ہوگیا ہے۔ انسانی دماغ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے شروع والے اس پراجیکٹ کا انسانی جینوم کو سمجھنے سے متعلق شروع ہونے والے منصوبے سے موازانہ کیا جا رہا ہے۔

ہیومن برین پراجیکٹ (ایچ بی پی) نامی منصوبے میں یورپی ممالک کے 135 سائنسی اداروں میں کام کرنے والے سائنسدان حصہ لے رہے ہیں۔

انسانی دماغ کی پیچیدہ وائرنگ

یورپی یونین کا یہ منصوبہ ایک عشرے تک جاری رہے گا جس کے دوران سائنسدان ایسی کمپیوٹر سمولیشن تیار کرنے کی کوشش کریں گے جس سے انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔

سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران اور سو کھرب سے زیادہ لونیا جوڑوں پر مشتمل ہے۔

سوئٹزرلینڈ سےتعلق رکھنے والے پروفیسر ہنری مارکریم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد انسانی دماغ کے بارے میں تمام معلومات کو اکھٹا کر کے ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا قیام ہے جس کے تحت دماغ کے بارے سمولیشن بن سکیں۔

انہوں نے کہا’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسانی دفاع اتنا منفرد کیوں ہے اور انسانی رویے اور ذہانت کے پیچھے کون سےعوامل کار فرما ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا اس پراجیکٹ کے مقاصد میں یہ بھی سمجھنا ہے کہ دماغی بیماریوں کا کیسا پتا چلا جائے اور انسانی ذہن کو سمجھ کر نیا ڈیجیٹل دماغ تیار کیا جا سکے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس وقت کمپیوٹر ٹیکنالوجی انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کی مکمل سمولیشن تیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔

انسانی ذہن کو سمجھنے کے اس منصوبے کا انسانی جینوم پراجیکٹ کے ساتھ موازانہ کیا جا رہا ہے۔ ایک عشرے تک جاری رہنے والے انسانی جینوم پراجیکٹ میں ہزاروں سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا اور اس منصوبے میں انسانی جینیٹک کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے بعد سائنسدان انسانی دماغ اور ڈیجیٹل دماغ کا موازانہ کر کے انسانی دماغ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔