طیاروں کے پرزوں کی تھری ڈی پرنٹنگ کا منصوبہ

یورپی خلائی ایجنسی نے تھری ڈی پرنٹنگ کو دھاتی دور میں لے جانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جیٹ طیاروں اور خلائی جہازوں کے پرزے تیار کیے جا سکیں گے۔

اس منصوبے کو ’امیز‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں کام کرنے کے لیے اٹھائیس مختلف اداروں کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں جو نئے دھاتی اجزا تیار کیے جائیں گے وہ روایتی پرزوں سے ہلکے، مضبوط اور سستے ہوں گے۔

تھری ڈی پرنٹر سے پہلی گن تیار

تھری ڈی پرنٹنگ نے اس سے قبل پلاسٹک کی مصنوعات کی تیاری میں انقلاب برپا کیا ہے۔

اب منصوبہ ہے کہ اس کی مدد سے راکٹ اور طیاروں کے دھاتی پرزے تیار کیے جائیں گے جس سے پیسے کی بچت ہو گی۔

اس تہہ دار طریقے سے ایسے نمونوں کے بنانے میں سہولت ہو گی جو پیچیدہ یا ’جیومیٹرکل‘ ہوتے ہیں اور انہیں روایتی طریقے سے بنائے جانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

کاروں کے پرزوں اور مصنوعی سیاروں کو اس طریقے سے ہلکا اور ساتھ ساتھ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

’ٹنگسن الائے‘ اجزا جو کہ تین ہزار سلسئیس تک کی حدت برداشت کر سکتے ہیں انہیں منگل کو ’امیز‘ کے اجراء پر لندن کے سائنس میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔

اس قدر شدید درجہ حرارت برداشت کرنے والے یہ پرزے ایک جوہری فیوژن ری ایکٹر اور راکٹوں کے نوزل پر بھی لگائے جا سکتے ہیں۔

یورپی خلائی ادارے ’ایسا‘ کے نئے اجزا اور توانائی میں تحقیق کے شعبوں کے سربراہ ڈیوڈ جاروِس نے کہا کہ ’ہم بہترین معیار کی دھاتی مصنوعات تیار کرنا چاہتے ہیں، ایسی اشیا جو کسی دوسرے طریقے سے تیار کرنا ممکن نہیں ہو سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کے فیوژن ری ایکٹر کی تیاری کا مطلب ہے کہ آپ نے کسی نہ کسی انداز میں سورج کی حدت کو ایک دھاتی ڈبے میں بند کر دیا ہے۔ تین ہزار سنٹی گریڈ کی حدت اتنی ہے جس حد تک انجینئرنگ سوچ سکتی ہے‘۔

جاروِس نے مزید کہا کہ ’اگر ہم تھری ڈی پرنٹنگ کو کام میں لے آئیں ہم کمرشل جوہری فیوژن کے قریب تر ہیں‘۔

بیس ملین یوروز کا یہ منصوبہ یورپ کے اٹھائیس صنعتی اور تدریسی اداروں کو مجتمع کرے گا جن میں یورپی طیارہ ساز ایئر بس، ایسٹریم، نورسک ٹائٹینیم، کرینفیلڈ یونیورسٹی، یورپ کی ہوابازی اور خلائی کمپنی اییڈز اور کلہم سینٹر فار فیوژن اینرجی شامل ہیں۔

صنعتی پیداوار کے لیے فیکٹریاں فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے اور برطانیہ میں لگائی جا رہی ہیں تاکہ صنعتی رسد کی چین بنائی جا سکے۔

’امیز‘ پر کام کرنے والے محققین نے پہلے سے ہی جیٹ کے انجن کے پرزے اور پروں کے دو میٹر تک کے حصے تیار کرنے شروع کیے ہیں۔ یہ حصے اب سے پہلے مہنگی اور کمیاب دھاتوں جیسے ٹائٹینیم، ٹینٹلم اور وینیڈیم سے تیار کیے جاتے تھے۔

ان کی تیاری کے لیے استعمال کی جانے والی روایتی تکنیک سے اکثر قیمتی اجزا ضائع ہو جاتے تھے۔

’ایسا‘ کے فرانکو اونگارو نے کہا کہ ’تھری ڈی ڈیجیٹل کی تہہ در تہہ تکنیک سے تیار کردہ پرزوں میں ضیاع بالکل ہی نہیں ہوتا ہے‘۔

اونگارو نے کہا کہ ’ایک کلو دھات کی تیاری میں ہم صرف ایک کلو دھات ہی استعمال کرتے ہیں نہ کہ بیس کلو اور یہ بات اہم ہے کہ ہمیں اپنے گند کو خود صاف کرنا ہے اور زیادہ ماحول دوست بننا ہے اور اس تکنیک سے ہمیں اس کام میں مدد ملے گی‘۔

ویلڈنگ یا نٹ بولٹ لگائے بغیر ایک واحد شکل میں تیار شدہ چیزیں زیادہ ہلکی اور مضبوط ہوں گی۔

Image caption یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کے طیارے ائیر بیس اے تھری ٹوئنٹی کے دروازے کے قبضے، جس میں پیچھے روایتی طریقے سے بنا ہوا جبکہ سامنے تھری ڈی پرنٹنگ سے تیار کردہ

طویل پروازیں کرنے والے طیارے کے وزن میں ایک کلو تک کی کمی سے اس کی پوری زندگی میں ہزاروں ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

جاروِس نے کہا کہ ’ہمارا حتمی مقصد ہے کہ ہم پورا مصنوعی سیارہ ایک واحد شکل میں تیار کریں صرف ایک دھات کے ٹکڑے سے جسے نہ ویلڈنگ کی ضرورت ہوگی اور نہ ہی اس کے پرزے بولٹ کرنے کی ضرورت ہو گی۔ اور اس سے ہم پچاس فیصد تک لاگت بچا پائیں گے جس کا مطب ہے کروڑوں یوروز کی بچت‘۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس مقصد کے حصول کی راہ میں بہت سی مشکلات ہیں جن کو عبور کرنا ہو گا۔

ایک عام مسئلہ مسام دار ہونا ہے جس کے نتیجے میں بہت چھوٹے ہوا کے بلبلے تیار شدہ شے میں رہ جاتے ہیں اور اس کی سطح کی کھردری تہہ بھی ایک مسئلہ ہے جو اس کی بہترین فنشگ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

جاروِس نے کہا کہ ’ہمیں ان مسائل اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے اگر ہم صنعتی معیار چاہتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام صنعتوں کو اکٹھے مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ان مسائل کا تدارک ہو سکے اور اس میں بہتری آ سکے۔

اسی بارے میں