برازیل:محفوظ ای میل سروس کی تشکیل کا اعلان

Image caption امریکی ایجنسی پر صدر دلما روسف کی ای میل اور فون ہیک کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا

برازیل نے تصدیق کی ہے کہ وہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے سائبر نگرانی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایک محفوظ ای میل سروس کی تشکیل کا ارادہ رکھتا ہے۔

برازیلی صدر دلما روسف نے اس بارے میں کئی ٹویٹس کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ’ممکنہ جاسوس‘ روکنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برازیل کی فیڈرل ڈیٹا پروسیسنگ سروس کو ای میل سروس تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے کمپیوٹر کے شعبے سے وابستہ پروفیسر راس اینڈرسن کا کہنا ہے کہ ’جرمن ای میل سروس جي ایم ایكس ڈاٹ ڈي اي کو مدِنظر رکھتے ہوئے خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک اچھی مثال ہے۔‘

اینڈرسن کے مطابق برازيلي حکومت کو یہ ای میل سروس فراہم کرنے والی ہر کمپنی سے کہنا پڑے گا کہ وہ اپنے سرور برازیل میں لگائیں اور اس کے علاوہ ملک کے اندر آنے والے اور باہر بھیجے جانے والے تمام پیغامات کو ان كرپٹ کریں اور ان اطلاعات تک صرف برازیلی پولیس اور خفیہ اداروں کی رسائی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ برازیل کو اپنی ای میل سروس جرمنی کی جي ایم ایکس ای میل اور اس طرح کی دوسری ان كرپٹڈ سروسز کی طرز پر ڈیزائن کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح ہی امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی اور برطانیہ کے گورنمنٹ كميونیكیشن ہیڈ کوارٹر کی نگرانی سے بچنا ممکن ہو گا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس ای میل سروس کی نگرانی کا خطرہ موجود رہے گا کیونکہ اگر اس کا کوئی صارف کسی ایسے فرد کو ای میل بھیجتا ہے جو یہ محفوظ ای میل سروس استعمال نہیں کر رہا تو اس کے ذریعے معلومات افشا ہو سکتی ہیں۔

اینڈرسن نے کہا کہ ’اس مسئلے کو اس نقطۂ نظر سے بھی دیکھے جانے کی ضرورت ہے کہ برازیل کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو ای میل بھیج رہے ہیں تو وہ غیر ملکی نگرانی سے محفوظ ہیں لیکن ان دنوں زیادہ سے زیادہ رابطے تو بین الاقوامی سطح پر ہو رہے ہیں۔‘

اینڈرسن کے مطابق دنیا بھر کی ای میل سروس میں ایک تہائی حصہ گوگل کی جی میل کا ہے اور اس سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امریکہ بہت سے پیغامات پڑھنے میں کامیاب رہے گا۔

’اگر آپ کوئی ای میل ایک درجن لوگوں کو بھیجتے ہیں تو اس بات کا امکان ہوگا کہ اس میں کوئی ایک شخص گوگل سروس کا استعمال کر رہا ہو گا۔‘

برازيلي صدر کی جانب سے محفوظ ای میل سروس کی تشکیل کا اعلان ان اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے کہ امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے نے برازیل کی سرکاری تیل کمپنی پیٹروبراس کی ویب سائٹ ہیک کی اور برازیلي لوگوں کی ای میل اور ٹیلیونک بات چیت کی نگرانی کی۔

امریکی ایجنسی پر صدر دلما روسف کی ای میل اور فون ہیک کرنے کا الزام بھی لگایا گیا تھا اور ان الزامات کے بعد روسف نے ستمبر میں واشنگٹن کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا تھا۔

انہوں نے بعدازاں اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں بھی کہا تھا کہ ’کسی قوم کی آزادی کا احترام کیے بغیر ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی کوئی بنیاد نہیں ہو سکتی۔‘

صدر روسف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ برازیل 2014 میں انٹرنیٹ کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اجلاس بلا سکتا ہے۔

مانا جا رہا ہے کہ اس مجوزہ اجلاس میں آئی سی اے این این (انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز) اور دوسری دیگر تنظیمیں اپنے کچھ حق اقوام متحدہ کے حوالے کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں