کھڑے ہو کر کام کرنا صحت کے لیے کتنا مفید؟

ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دن میں زیادہ وقت بیٹھے رہنے کے مقابلے میں کھڑے رہنا صحت کے لیے بہت مفید ہے۔

کیا آپ نے کبھی اندازہ لگایا ہے کہ آپ دن میں کتنے گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں؟ آٹھ سے کم یا دس سے زیادہ؟

ایک سروے کے مطابق ہم دن میں تقریباً بارہ گھنٹے کمپیوٹر یا ٹی وی کے آگے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ اگر اس میں نیند کے سات گھنٹے بھی شامل کر لیں تو اس کا مطلب ہوا کہ ہم انیس گھنٹے بیٹھے رہتے ہیں۔

اتنے زیادہ گھنٹے بیٹھے رہنا ہمارے لیے اچھا نہیں ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو افراد پورا دن بیٹھے رہتے ہیں ان کی زندگی ان افراد سے دو سال کم ہوتی ہے جو نسبتاً زیادہ چست ہوتے ہیں۔

ہم میں سے کئی زیادہ تر بیٹھے رہنے کے قصوروار ہیں۔ کام پر، گاڑی میں، گھر پر اور بس اسی وقت اٹھتے ہیں جب ایک سیٹ سے اٹھ کر دوسری سیٹ پر جانا ہو۔

روزانہ کسرت کرنا بھی شاید کافی نہ ہو۔ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ کسرت کرنے سے بھی لمبے عرصے تک بیٹھنے سے ہونے والے نقصان کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

آج کل کی ٹیکنالوجی نے ہمیں تاریخ میں سب سے زیادہ بیٹھے رہنے والے انسان بنا دیا ہے۔

تو آخر بیٹھے رہنا کس طرح اتنا نقصان دے ہے؟ بیٹھے رہنا اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہمارا جسم شوگر سے کس طرح نمٹتا ہے۔ جب ہم کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اس خوارک کو توڑ کر گلو کوز میں تبدیل کر دیتا ہے جو خون کے ذریعے دوسرے خلیوں تک پہنچتا ہے۔

گلو کوز اہم ہے اور ہمارے لیے ایندھن مہیا کرتا ہے لیکن اس کی سطح میں اضافے سے ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے۔ لبلبہ ایسی انسولین پیدا کرتا ہے جس سے گلو کوز کی مقدار کو دوبارہ معمول کی سطح پر لانے میں مدد ملتی ہے لیکن اس عمل کے مؤثر ہونے کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ جسمانی طور پر کتنے چست ہیں۔

دس لوگوں کے ایک ایسے گروہ کو اس تجربے میں شامل کیا گیا جو اپنے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں اور ان سے کہا گیا کہ وہ کچھ گھنٹے کھڑِے ہو کر گزاریں۔

کھڑے ہو کر کام کرنا عجیب تو لگتا ہے لیکن یہ ایک پرانی روایت ہے۔ ونسٹن چرچل کھڑے ہو کر کام کرنے کے لیے مخصوص ڈیسک پر لکھا کرتے تھے۔ ارنیسٹ ہیمنگ وے اور بینجمن فرینکلن بھی ایسے ہی کرتے تھے۔

Image caption پانچ دن تک روزانہ تین گھنٹے کھڑے رہنا ایک سال میں دس میراتھنز میں حصہ لینے کے مترادف؟

یونیورسٹی آف جیسٹر کے ڈاکر جان بکلے اور تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے ایک عام سا تجربہ کیا۔ پراپرٹی کا کام کرنے والے دس افراد کو ایک ہفتے تک دن میں تین گھنٹے کھڑے ہو کر کام کرنے کو کہا گیا۔

اس تجربے کے دوران ان کی حرکت، دل کی دھڑکن اور گلو کوز کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا گیا۔

اس بات کے شواہد کم از کم سنہ انیس سو پچاس سے موجود ہیں کہ کھڑے ہونا بیٹھنے سے بہتر ہے۔ اس وقت ایک ایسی تحقیق کی گئی تھی جس میں بس کے کنڈیکٹر (جو کھڑے رہتے ہیں) اور ڈرائیور (جو بیٹھے رہتے ہیں) کا موازنہ کیا گیا تھا۔ اس تحقیق سے پتہ چلا کہ بس ڈرائیوروں کے مقابلے میں کنڈکٹروں میں دل کی بیماری ہونے کا خطرہ آدھا تھا۔

برطانیہ میں اس قسم کی تحقیق پہلی مرتبہ کی گئی لیکن تحقیق کاروں کو ایک فکر یہ تھی کہ کیا اس تجربے میں شامل افراد ایک ہفتے تک ایسا کر سکیں گے؟

انہوں نے ایسا کیا یہاں تک کہ جوڑوں میں سوجن کی ایک مریض نے کھڑے رہنے سے اپنی صحت میں بہتری محسوس کی۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد بیٹھنے کے بجائے کھڑے رہنے سے خون میں گلو کوز کی مقدار جلد معمول پر آگئی۔

دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرنے سے یہ معلوم ہوا کہ کھڑے رہنے سےان کی کیلوریز کی مقدار میں تیزی سے کمی ہو رہی تھی۔

ڈاکٹر جان بکلے کے مطابق ’اگر ہم ان کے دل کی دھڑکن کو دیکھیں تو وہ معمول سے تیز ہے۔ اوسطاً ہر منٹ میں معمول سے دس دھڑکنیں زیادہ اور اس سے فی منٹ 0.7 کیلوری کا فرق پڑتا ہے۔ ‘

یہ زیادہ نہیں لیکن مجموعی طور پر اس سے فی گھنٹہ پچاس کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ اگر آپ پانچ دن تک روزانہ تین گھنٹے کھڑے رہیں تو اس کا مطلب ہے 750 کیلوریز کی کمی۔ اس حساب سے ایک سال میں تیس ہزار کیلوریز۔

ڈاکٹر بکلے کے مطابق ’یہ ایک سال میں دس میراتھنز میں حصہ لینے کے مترادف ہے۔ اور ایسا روزانہ کام پر صرف تین سے چار گھنٹے کھڑے رہنے سے ہو سکتا ہے۔‘

ہم سب کام پر کھڑے نہیں رہ سکتے لیکن تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ چھوٹی موٹی حرکت جیسے فون پر بات کرتے ہوئے کھڑے ہونا، کام پر کسی کو ای میل بھیجنے کے بجائے ان کے پاس جا کر بات کرنا یا سیڑھیوں کا استعمال بھی بہت مؤثر ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں