برطانوی شہر میں بغیر ڈرائیور کاریں چلیں گی

Image caption بغیر ڈرائیور کے یہ گاڑیاں بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا کریں گی

برطانیہ کے شہر ملٹن کینز کی سڑکوں پر 2015 سے بغیر ڈرائیور کے کاریں چلنا شروع کر دیں گی۔

برطانیہ کے بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے اعلان کیا ہے کہ 20 کے قریب بلا ڈرائیور گاڑیاں ملٹن کینز کے مرکز میں مخصوص سڑکوں پر چلا کریں گی۔

منصوبے کے مطابق 2017 کے وسط میں سو کے قریب مکمل طور پر خودکار کاریں شہر میں کام کر رہی ہوں گی جو پیدل چلنے والوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر چلا کریں گی جن میں ٹکراؤ سے بچنے کے لیے سنسرز لگے ہوئے ہوں گے۔

بغیر ڈرائیور کے ان گاڑیوں میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی اور یہ بارہ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

ان گاڑیوں میں ایسی سکرینیں لگی ہوں گی جن پر مسافر انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے اور اپنی ای میل وغیرہ چیک کر سکیں گے۔

ونس کیبل نے جمعرات کو برطانوی شہر نارتھ ہیمپٹن میں 15 لاکھ پاؤنڈ لاگت کے اس منصوبے کا افتتاح کیا اور ساڑھے سات کروڑ پاؤنڈ کی امداد کا بھی اعلان کیا جس سے کم کاربن پیدا کرنے والے انجن بنائے جائیں گے۔

اس مجوزہ گاڑی پر سفر کے لیے دو پاؤنڈ خرچ آنے کا امکان ہے مگر اس کا حتمی فیصلہ اگلے سال کیا جائے گا۔

ابتدا میں ان گاڑیوں پر مسافر سوار ہو کر ریلوے سٹیشن سے شہر کے مرکز تک کا فاصلہ طے کرے گا جو ایک میل کی چڑھائی ہے اور اس پر پیدل بیس منٹ لگتے ہیں۔

Image caption انٹرنیٹ کمپنی گوگل کا دعویٰ ہے امریکی شہر کیلی فورنیا میں اس کی بغیر ڈرائیور کے کار نے بغیر کسی حادثے کے چار لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا ہے۔

نسان، ٹویوٹا اور وولوو جیسی دنیا کی بڑی کاریں بنانے والی کمپنیاں بغیر ڈرائیور کے کاریں بنانے پر تحقیق کر رہی ہیں۔

اگست میں وولوو نے ایک ایسی کار کا تجربہ کیا تھا جو دو بٹن دبانے پر ڈرائیور سے بریک، انجن اور سٹیئرنگ کا اختیار لے لیتی ہے۔

انٹرنیٹ کمپنی گوگل کا دعویٰ ہے امریکی شہر کیلی فورنیا میں اس کی بغیر ڈرائیور کے کار نے بغیر کسی حادثے کے چار لاکھ میل کا فاصلہ طے کیا ہے۔

لینکاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن سپرنگ کے مطابق ’مسئلہ بغیر ڈرائیور کے گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ موجودہ سڑکوں کے نظام میں وہ اپنی جگہ کیسے بنائیں گی۔‘

ملٹن کینز کے مقامی شہریوں کا اس بارے میں رویہ مقامی کونسل کے مطابق بہت دلچسپی کا ہے۔

اسی بارے میں