’میں نہیں میرا دماغ خراب ہے‘

ایک ماہرِ قانون کے مطابق امریکہ میں فوجداری عدالتوں میں ایسے مجرم بڑی تعداد میں پیش ہو رہے ہیں جو اپنے جرائم کی وجہ دماغی خلل کو قرار دیتے ہیں اور غیر مصدقہ اور متنازع دماغی ٹیسٹ ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

نیتا فرحانی قانون کی پروفیسر ہیں اور صدر براک اوباما کے حیاتیاتی اخلاقیات کے مشاورتی بورڈ میں شامل ہیں۔ انھوں نے نیورو سائنس کی ایک سوسائٹی کے اجلاس میں کہا کہ جرائم پیشہ افراد جب مقدمات کا سامنا کرتے ہیں تو وہ بہت زیادہ پیچیدہ دفاع پیش کرتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ دماغی علوم سے مدد لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر قتل یا دوسرے جرائم کے ذمے دار نہیں ہیں۔

وکلا عموماً دماغی سکین یا دوسرے دماغی ٹیسٹوں سے ملزموں کی سزا میں کمی کرانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اب بہت سارے کیس ایسے ہیں جن میں ملزموں کو تمام تر ذمے داری سے بری الذمہ قرار دیا جاتا ہے۔

فرحانی نے کہا کہ ’جو بات بہت انوکھی ہے وہ یہ ہے کہ جرائم کا دفاع کرنے والوں کا یہ کہنا ہے کہ لازماً میرے دماغ نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔‘

پروفیسر فرحانی اس نتیجے پر 2005 سے 2012 تک کے 15 سو کیسز کا مشاہدہ کرنے کے بعد پہنچیں۔

امریکی سپریم کورٹ نے ملک میں بڑھتے ہوئے نام نہاد ’نیورو لا‘ یا دماغی خلل کے قانون کا سہار لیتے کیسز کی وجہ سے اس سے متعلقہ قوانین کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

قانونی اور سائنسی ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ رجحان دوسرے ممالک میں پھیل سکتا ہے۔

بہت کم ایسے کیس ہیں جن کے فیصلے پر اس قانون کی بنیاد پر اثر پڑا۔

2009 میں ایک اطالوی خاتون سٹیفانیا البرٹینا نے اپنے جرم کا اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی بہن کو قتل کیا پھر ان کی لاش کو آگ لگائی اور پھر اپنے والدین کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔

انہیں اس جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی مگر 2011 میں جج لوئیسا لو گاٹو نے دماغ اور جینیاتی شواہد کا جائزہ لیا۔ ماہرین کا دعویٰ تھا کہ سٹیفانیا کا جرم دماغی خلل کی بنیاد پر سرزد ہوا جس کی وجہ سے انسان جلد باز ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے رویے میں جارحیت آتی ہے۔

اس ماہرانہ رائے پر جج نے ان کی سزا میں تخفیف کر کے اسے 20 سال کر دیا۔

2005 میں اس نام نہاد قانون نے تحت مقدمات کی تعداد 30 تھی جبکہ 2012 میں یہ سو سے زیادہ ہو گئی۔

فرحانی کا خیال ہے کہ ججوں اور وکلا کو ہنگامی بنیادوں پر دماغی سائنس کی آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کے استعمال اور اس کی حدود کا تعین کر سکیں۔

تاہم ایسے کیس بھی ہیں جن میں دماغی خلل سے مجرمانہ طرزِ عمل جنم لیتا ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا میڈیکل سینٹر کے ماہرینِ امراض دماغی امور رسل سورڈلو، جیفری برنز نے ایک 40 سالہ استاد کے کیس کا ذکر کیا جنہیں اچانک بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش پیدا ہونے لگی اور انہیں ایک بچے کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جرم میں سزا دی گئی اور انہیں بحالی کے مرکز میں اندارج کے لیے کہا گیا۔

جس شام کو اس استاد کو سزا سنائی جانی تھی انہوں نے سر درد کی شکایت کی اور بتایا کہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے نہیں رہ سکتے۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کو ان کے دماغ میں ایک انڈے کے برابر رسولی ملی جسے جب سرجن نے نکالا تو ان کی جنسی خواہشات میں آنے والی اچانک تبدیلی کا مسئلہ ختم ہو گیا۔

اس کے بعد ایک بار پھر جب انہیں استاد نے بچوں کی فحش فلمیں یا مناظر اکٹھے کرنا شروع کیے تو ان کے سکین سے پتا چلا کہ ان کے دماغ میں یہ رسولی پھر سے بن گئی ہے جسے جب نکالا گیا تو پھر سے ان کا مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔

پروفیسر فرحانی کا کہنا ہے کہ سائنسی شواہد کو فوجداری مقدمات میں استعمال کرنے کے معاملے میں احتیاط ضروری ہے اور اسے غیر متعلقہ دعووں کی خاطر کھینچ تان کر استعمال کرنے کے تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’قانون جو سوالات کرتا ہے اس کے جوابات سائنس نہیں دے سکتی اور سائنس ایسے جوابات دیتی ہے جو قانون نہیں پوچھتا اور آپ دماغی سکین سے ہی ذمے داریوں کا تعین نہیں کر سکتے۔‘

اسی بارے میں