امریکہ:ایک تہائی بالغوں کو کولیسٹرول کی دوا لینے کی تجویز

سٹیٹن لپیٹور
Image caption لپی ٹور اور زوکور جیسی معروف سٹیٹن ادوایات کے پیٹنٹ کی میعاد ختم ہو چکی ہے

امریکہ میں جاری ہونے والے ایک نئے طبی ضابطے میں ایک تہائی امریکی بالغوں کو کولیسٹرول میں کمی کے لیے سٹیٹن استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امریکہ کے دو سرفہرست طبی اداروں کے ایک تخمینے کے مطابق تین کروڑ 30 لاکھ امریکی، جن میں 44 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں، سٹیٹن استعمال کرنے کے لیے مقرر کردہ سطح کے مطابق اسے استعمال کر سکتے ہیں۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن اور امریکی کالج آف کارڈیالوجی کی جانب سے جاری ہونے والے ضابطے میں پہلی مرتبہ نہ صرف دل کے دورے بلکہ فالج کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے۔

موجودہ ضابطے کے مطابق سٹیٹن ان افراد کو تجویز کی جاتی ہے جن میں کولیسٹرول کی کل سطح 200 سے زیادہ یا اس کی دوسری قسم ایل ڈی ایل کی سطح 100 سے زیادہ ہو۔

ان نئی تجاویز میں مریضوں کے لیے کولیسٹرول کم کر کے کسی خاص سطح پر لانے کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

اس نئے ضابطے میں مریضوں میں دل کی بیماری کے خدشے کا اندازہ لگانے کے لیے ایک نئے فارمولے کو متعرف کروایا گیا ہے جس کے تحت اس کی بنیاد صرف یہ نہیں کہ ان میں کولیسٹرول کی سطح کیا ہے بلکہ عمر، جنس اور نسل جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

خواتین اور افریقی نژاد امریکی، جن میں فالج کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، ان نئی تجاویز پر عمل پیرا ہوں تو ان کی بڑی تعداد سٹیٹن کا استعمال کرے گی۔

Image caption رپورٹ کے مطابق سٹیٹن ایسے افراد کے لیے مفید ہے جو پہلے سے عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں

اس رپورٹ کے مطابق ایسے چار گروپ ہیں جن کے لیے سٹیٹن مفید ثابت ہو سکتی ہے: ایسے افراد جو پہلے سے عارضۂ قلب میں مبتلا ہیں، جن میں جینیاتی وجوہات کی بنا پر ایل ڈی ایل کی سطح 190 یا اس سے زیادہ ہے، ایسے بالغ افراد جنہیں ٹائپ ٹو ذیابیطیس ہے۔

رپورٹ میں خوراک کے بارے میں بھی مشورے دیے گئے ہیں جو سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل ہے اور اس کے علاوہ تمام بالغوں کو ہفتے میں تین سے چار مرتبہ ورزش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ نیا ضابطہ وضع کرنے میں شامل تقریباً نصف افراد کا دل کے لیے ادویات بنانے والی صنعت سے مالی روابط ہیں لیکن پینل کے سربراہان کا کہنا ہے کہ حتمی تجاویز کے لیے اس صنعت کے ساتھ تعلق رکھنے والے کسی شخص کو ووٹ دینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر جارج مینسا نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عملی طور پر ایسے ماہرین کو ڈھونڈنا مشکل ہے جن کے اس صنعت کے ساتھ تعلقات نہ ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ تجاویز ٹھوس شواہد پر مبنی ہیں۔

معروف سٹیٹن ادوایات لِپی ٹور اور زوکور کے پیٹنٹ کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور اب اس کے کم قیمت ورژن دستیاب ہیں۔

لیکن ادوایات بنانے والے ادارے ایسٹرا زینیکا کی جانب سے بنائی گئی سٹیٹن کریسٹور کے پیٹنٹ کی میعاد ابھی باقی ہے۔ 2012 میں 8.3 ارب ڈالر مالیت کی کریسٹور فروخت ہوئی تھی۔

اسی بارے میں