چین کے سپر کمپیوٹر کی پہلی پوزیشن برقرار

Image caption تیاں کا لائن پیک سکور فہرست میں دوسری پوزیشن پر امریکی کمپیوٹر سے دوگنا ہے

دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹروں کی فہرست میں چینی حکومت کے بنائے ہوئے طاقتور سپر کمپیوٹر نے اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

لائن پیک معیاری ٹیسٹ کے مطابق ’تیان ہی 2‘ نامی سپر کمپیوٹر کی رفتار 33.86 پیٹا فلاپ فی سیکنڈ ہے جو 33863 ٹریلین کیلکولیشن (حساب کتاب) فی سیکنڈ کرنے کا اہل ہے۔

تیان ہی-2 چینی زبان میں کہکشاں کو کہتے ہیں۔ اس کمپیوٹر کو چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے، اور اسے ملک کے جنوب مشرقی صوبے گوانڈونگ کے شہر گوانگ ژو میں رکھا جائے گا۔

اس کا پروسیسر انٹیل کا بنایا ہوا ہے جب کہ یونیورسٹی نے اس کا سی پی یو(سنٹرل پروسیسنگ یونٹ) خود ڈیزائن کیا ہے۔

اس کمپیوٹر کو ’تحقیق و تعلیم‘ کے شعبے کو پیش کیا جائے گا جبکہ بعض مقامی اطلاعات کے مطابق اس کے استعمال کے لیے موٹر کار صنعت ممکنہ ترجیحی صارف ہو گی۔

تیان ہی کا لائن پیک سکور فہرست میں شامل دوسری پوزیشن پر امریکی کمپیوٹر سے دوگنا ہے۔

ٹائیٹن نامی یہ کمپیوٹر امریکی ریاست ٹینیسی میں اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ہے۔

تاہم ایک ماہر نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ چینی کمپیوٹر کی حقیقی کارکردگی امریکی کمپیوٹر سے بہتر ہو گی۔

اس فہرست کی پہلی دس پوزیشنوں میں صرف ایک تبدیلی آئی ہے اور سوئٹزرلینڈ کی نئی پیز ڈینٹ کو جس کی رفتار 6.27 پیٹا فلاپ ہے، چھٹی پوزیشن ملی ہے۔

دنیا کے 500 ٹاپ کمپیوٹرز کی فہرست جرمنی کی مین ہائم یونیورسٹی کے ایک پرفیسر کی سربراہی میں ایک ٹیم سال میں دو دفعہ جاری کرتی ہے۔

یہ ٹیم کسی کمپیوٹر کی رفتار معلوم کرنے کے لیے اس کے ایک خاص قسم کی لینیئر ایکویشن کے سوالات حل کرنے کی رفتار کو معلوم کرتی ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر کی دوسری خصوصیات کو مدِنظر نہیں رکھتی، مثلاً کمپیوٹر کی ایک حصے سے دوسرے حصے میں ڈیٹا منتقل کرنے کی رفتار، جس سے کمپیوٹر کی حقیقی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

آئی بی ایم نے حالیہ فہرست کے دس میں سے پانچ تیز ترین کمپیوٹر بنائے ہیں۔ اس کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فہرست بندی کے طریقۂ کار کو اپ ڈیٹ یا وقت کے مطابق بنانا چاہیے اور وہ اس سلسلے میں ڈینور کولاریڈو میں ہونے والی کانفرنس میں اس کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے لیے بات کریں گے۔

اسی بارے میں