’انٹرنیٹ پر فحش مواد کا شدت پسندوں کے خلاف استعمال‘

Image caption شدت پسندوں کے انٹرنیٹ پر فحش مواد دیکھنے سے ان کے جذبۂ جہاد پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں: این ایس اے

اخبار ہفنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے انٹرنیٹ پر فحش نوعیت کی سرگرمیوں کی نگرانی کی ہے اور وہ اس تجویز پر غور کر رہے ہیں کہ اسے استعمال کرنے والے شدت پسندوں کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

امریکہ کے راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن این ایس اے کی جانب سے جاری کردہ ایک دستاویز منظرِ عام پر لائے ہیں جس کے مطابق دو مسلمانوں کو انٹرنیٹ پر فحش سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث مشکل میں ڈالا جا سکتا ہے۔

ادارے کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ این ایس اے کی جانب سے ایسی نگرانی حیران کن نہیں ہے۔ تاہم ’پرائیوسی انٹرنیشنل‘ نامی گروپ کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف انتہائی خوفناک ہے۔

این ایس اے کے تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر شان ٹرنر نے ہفنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’کسی بھی فرد کا نام لیے بغیر میں یہ کہوں گا کہ یہ بات حیران کن نہیں ہونی چاہیے کہ امریکی حکومت ان تمام میسر وسائل کا ان افراد کے خلاف استعمال کرتی ہے جو ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے، دہشت گردی کے عزائم رکھنے والے یا دوسروں کو دہشت گردی پر اکسانے والے ہوں۔‘

پرائیوسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے ’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہم نے دیکھا کہ امریکی حکومت سے مختلف رائے رکھنے والے کسی شخص کی ذاتی اور نجی معلومات استعمال کر کے اس کے پیغام کو رد کیا جا رہا ہو۔‘

اس رپورٹ کے آنے سے قبل ہی اقوام متحدہ کے چند ماہرین نے ’پرائیوسی کے حق‘ کے لیے ایک قرارداد تیار کی تھی۔ یہ قرارداد اس سال کے آخر میں اقوام متحدہ میں پاس کی جائے گی تاہم یہ ایک علامتی قرارداد ہے کیونکہ یہ رکن ممالک پر قانونی طور پر لاگو نہیں ہوگی۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسے ایسے بڑے پیمانے پر نگرانی کے پروگراموں کے منفی اثرات کے بارے میں شدید تشویش ہے۔

Image caption آپ یہ مت بھولیں کہ این ایس اے بڑے پیمانے پر نگرانی کر رہی ہے اور تقریباً ہر کسی کی معلومات محفوظ کی جا رہی ہیں: پرائیوسی انٹرنیشنل کے ترجمان مائیک رسپول

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی گئی دستاویزات کے مطابق اکتوبر 2012 کی تاریخ والی ایک دستاویز این ایس اے کے ڈائریکٹر کے دفتر سے دیگر امریکی محکموں کو بھیجی گئی تھی۔

اس دستاویز میں چھ مسلمان افراد کے نام ہیں جنہیں اہم، عالمی سطح کے اور غیر ملکی افراد بتایا گیا ہے جو لوگوں کو شدت پسندی پر اکساتے ہیں۔ ان کے بارے میں دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان کی چند ’کمزوریاں‘ ہیں جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دستاویز کے مطابق یہ معلومات زیادہ تر ’سنی شدت پسندوں کی بات چیت‘ سے ایف بی آئی کی مدد سے حاصل کی گئی ہیں۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’ان افراد کی کمزوریاں اگر منظرِ عام پر لائی گئیں تو جہادی مقاصد کے لیے ان کے جذبے پر سوال اٹھائے جائیں گے جس سے ان کی بےعزتی ہوگی یا ان کے اثر و رسوخ میں کمی آئے گی۔‘

اس کی ایک مثال ایک شخص کے انٹرنیٹ پر فحش نوعیت کے مواد کا صارف ہونا اور کم عمر لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے نازیبا الفاظ کا استعمال دی گئی ہے۔

دستاویز میں دی گئی دیگر معلومات میں مشتبہ ملزم کے مندرجہ ذیل اقدامات کا بھی ذکر ہے۔

  • عطیات سے ذاتی اخراجات کرنا
  • خطاب کرنے کے لیے انتہائی زیادہ رقم مانگنا
  • غیر تصدیق شدہ ذرائع سے ملنے والی معلومات کا استعمال
  • عوامی پیغامات میں متضاد پیغام دینا
Image caption امریکہ میں این ایس اے کے نگرانی کے پروگرام پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے

رپورٹ میں مذکورہ چھ افراد میں سے کسی پر بھی دہشت گردی میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام نہیں ہے۔

تاہم دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک شخص ماضی میں غیر مسلموں کے خلاف نفرت پھیلانے کے جرم میں جیل جا چکا ہے جبکہ ایک اور القاعدہ کی تشہیر میں ملوث رہا ہے۔

پرائیوسی انٹرنیشنل کے ترجمان مائیک رسپولی کا کہنا تھا کہ ’این ایس اے کی صلاحیت کے بارے میں خوفناک بات یہ ہے کہ وہ ہر کسی کے بارے میں بہت ساری معلومات جمع کرتی ہے جن میں آپ کے سیاسی خیالات، آپ کے تعلقات اور رشتے اور انٹرنیٹ کی ہسٹری شامل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگرچہ ایسی دستاویزات سے لگتا ہے کہ ایسی کارروائیاں مخصوص لوگوں کے لیے ہیں، آپ یہ مت بھولیں کہ این ایس اے بڑے پیمانے پر نگرانی کر رہی ہے اور تقریباً ہر کسی کی معلومات محفوظ کی جا رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں