فوجی سافٹ ویئر کی نقول، امریکہ پانچ کروڑ ڈالر دینے پر رضامند

Image caption یہ کمپیوٹر پروگرام فوج کو اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت اور رسد پر نظر رکھنے میں مدد دیتا ہے

امریکی حکومت نے فوجی سافٹ ویئر کی غیرقانونی نقول تیار کرنے کے معاملے میں پانچ کروڑ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

سنہ 2004 سے امریکی فوج کو لاجسٹکس پروگرام فراہم کرنے والی ریاست ٹیکسس کی کمپنی ایپٹریسٹی نے امریکی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اسے گذشتہ برس پتا چلا کہ اس کا سافٹ ویئر بہت سی ایسی مشینوں پر کام کر رہا تھا جن کے پاس اس کا لائسنس نہیں تھا۔

ڈیلس کے مقامی اخبار کے مطابق امریکی محکمۂ انصاف کی ترجمان نے سمجھوتے کی تصدیق کی ہے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔

ایپٹریسٹی کا یہ کمپیوٹر پروگرام فوج کو اپنے فوجیوں کی نقل و حرکت اور رسد پر نظر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے 2010 میں ہیٹی میں آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیوں میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی اور فوج میں طے پانے والے معاہدے کے تحت پانچ سو افراد کو یہ سافٹ ویئر استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

کمپنی کے مطابق امریکی حکومت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اندازاً نو ہزار افراد یہ پروگرام استعمال کرتے رہے اور یہ تعداد ان 500 صارفین کے علاوہ تھی جنہیں اس کی اجازت دی گئی تھی۔

اس سافٹ ویئر کی غیرقانونی نقول تیار کرنے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کے ایک اہلکار نے ایسی ہزاروں مشینوں کی موجودگی کی تصدیق کی جن پر یہ پروگرام موجود تھا۔

ایپٹریسٹی نے عدالت میں 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم اس نے امریکی حکام سے معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے عدالت سے باہر پانچ کروڑ ڈالر پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ برسوں میں امریکی حکومت نے پائریسی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کی ہیں۔ 2010 میں اس سلسلے میں ایک مہم کے دوران نائب صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ پائریسی ’سادہ اور عام الفاظ میں چوری ہے۔‘

اسی بارے میں