ڈرون ہائی جیک کرنے کا دعویٰ

پیرٹ ڈرون
Image caption پیرٹ کا نیا ماڈل 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے اور 165 میٹر (540 فٹ) کی بلندی تک جا سکتا ہے

ایک سکیورٹی سائنس دان نے ایک ایسا طریقہ ایجاد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس سے اڑتے ہوئے ڈرونز کا سسٹم ہائی جیک کیا جا سکتا ہے۔

سکیورٹی ریسرچر سیمی کمکار نے یہ دعویٰ ڈرون بنانے والی پیرٹ نامی کمپنی کے ڈرونز کے بارے میں کیا ہے اور ان کے مطابق ایسا اس لیے ممکن ہے کیوں کہ اس کمپنی کے ڈرونز میں موجود وائی فائی ڈیٹا انکرپٹڈ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق کرنے کا کوئی طریقہ موجود ہے۔

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق کمپنی اس دعوے کی تحقیق کر رہی ہے۔

اپنے حالیہ بلاگ ’ سکائی جیک‘ میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے پیرٹ ڈرون پر یہ تجربہ کیا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کمکار نے یہ بلاگ ایمیزون کے اس اعلان کے بعد لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بغیر پائلٹ کے ڈرون کے ذریعے صارفین تک سامان پہنچانے کا تجربہ کر رہی ہے۔

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ پیرٹ نے اس معاملے میں بنیادی قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا ہے۔

تاہم انہوں نے سیمی کمکار کے اس دعوے کو رد کیا ہے کہ ایک دن اس تکنیک سے آن لائن خرید و فروخت کی بڑی کمپنی ایمیزون اور دیگر کی جانب سے استعمال ہونے والے ڈرونز کو ہائی جیک کیا جا سکے گا۔

پیرٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں ابھی کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

کمکار اس سے پہلے بھی خبروں میں رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسا مالویئر (نقصان دہ سافٹ ویئر) بنایا تھا جس سے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ ’مائی سپیس‘ میں ایک خرابی کو افشا کیا تھا اور اس بات کا انکشاف بھی کیا تھا کہ کئی سمارٹ فونز میں موجود آپریٹنگ سسٹم اپنی کمپنیوں کو صارفین کے محل و وقوع کے بارے میں معلومات بھیج رہے تھے۔

کمکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے خیال میں ڈرونز میں اضافی حفاظتی نظام موجود ہونا ضروری ہے۔

’میں جن ڈرونز کی بات کر رہا ہوں وہ عام صارف استعمال کر رہے ہیں لیکن وہ پھر بھی بغیر پائلٹ کے اڑتے ہیں اور یہ بات خوفزدہ کرنے والی ہے کہ ان کا آسانی سے کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ یہ جلد ہی بہت عام ہو جائیں گے۔‘

یونیورسٹی آف کیمبرج میں کمپیوٹر سکیورٹی ریسرچ گروپ کے سربراہ پروفیسر راس اینڈرسن نے بی بی سی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بظاہر ڈیزائن میں بنیادی خرابی ہے۔‘

پیرٹ کے ڈرونز کے خریداروں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو اسے اپنے سمارٹ فون یا ٹیبلٹ کے ذریعے کنٹرول کر کے بلندی سے ویڈیو یا تصاویر بنانے کا شوق رکھتے ہیں۔

پیرٹ کا نیا ماڈل 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے اور 165 میٹر (540 فٹ) کی بلندی تک جا سکتا ہے۔

تکنیکی خبروں کی ویب سائٹ آرس ٹیکنیکا کے مطابق 2010 سے اب تک کم از کم پانچ لاکھ پیرٹ ڈرونز فروخت ہو چکے ہیں۔

کمکار نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ’ایمیزون کا سامان لے جاتے ہوئے ڈرونز پر کنٹرول حاصل کرنے کا کتنا مزا آئے گا۔‘

پیکیج سروس کمپنی یو پی ایس اور ڈومینوز پیزا ان کمپنیوں میں شامل ہیں جو اس قسم کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق کر رہی ہیں۔

ایک سکیورٹی ماہر کا کہنا ہے کہ اگر ان کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا تو وہ کبھی بھی سکیورٹی کو نظر انداز نہیں کریں گی۔

جراسک کنسلٹنگ سروس کے ولادمیر جراسک کا کہا ہے کہ ’اگر پیرٹ اسے نظر انداز کر رہی ہے تو اس سے کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ سوچیں کہ یہ موٹر وے پر ٹریفک بلاک کر سکتا ہے۔‘

’میرا نہیں خیال کہ ایمیزون سکیورٹی کے معاملے میں اتنی لاپروا ہوگی۔‘

اسی بارے میں