’ایسپارٹیم انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے‘

Image caption 1980 میں ایسپارٹیم کا استعمال شروع ہونے کے بعد سے ’ایسپارٹیم‘ کے بارے میں مختلف سوالات سامنے آتے رہے ہیں

یورپ کے خوراک کی نگرانی کے ادارے کا کہنا ہے کہ مصنوعی چینی ’ایسپارٹیم‘ محفوظ ہے اور اس سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

بازار میں یہ چینی نیوٹراسویٹ اور ایکوئل وغیرہ کے ناموں سے دستیاب ہے اور اسے ڈائٹ کوک اور ڈائٹ پیپسی میں میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یورپ کے خوارک کے تحفظ اور نگرانی کے ادارے ایفسا نے اپنے جائزے کو یورپیئن کمیشن کی درخواست پر 2020 میں مکمل کرنے کی بجائے جلد مکمل کر لیا ہے۔

1980 میں اس کے استعمال میں آنے کے بعد سے ’ایسپارٹیم‘ کے بارے میں مختلف سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔

’ایفسا‘ کا کہنا ہے کہ اس نے مکمل طور پر اس معاملے کا جائزہ لیا ہے اور اس میں دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔

ایسپارٹیم ایک ایسی مصنوعی چینی ہے جس کے بارے میں بہت سی سازشی نظریات پائے جاتے ہیں جن میں اسے بچوں کے طرز عمل کے مسائل اور بچوں میں کینسر سے لے کر جگر کی بیماریوں کا باعث قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سائنسی جائزے سے یہ تمام باتیں غلط ثابت ہوئی ہیں۔

ایفسا کا کہنا ہے کہ اس نے تمام متعلقہ اداروں اور افراد سے بات کی ہے اور اس سلسلے میں 200 سے زیادہ تجاویز پر بھی غور کیا جو اسے انٹرنیٹ پر موصول ہوئیں۔

ایفسا نے کہا ہے کہ ایسپارٹیم جسے بعض اوقات لیبل پر E951 لکھا جاتا ہے، انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے۔

چینی سے تقریباً 200 گنا زیادہ میٹھی اور کم حرارے رکھنے والی اس مصنوعی چینی کو بہت سے کھانوں اور مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کی مجوزہ مقدار جسم کے فی کلو وزن کے حساب سے 40 ملی گرام روزانہ ہے۔

یہ ایک برطانوی بالغ شخص کے لیے 2800 ملی گرام ہے اور تین سال کے اوسط بچے کے لیے 600 ملی گرام ہے۔

اسے نہ استعمال کرنے کی تجویز صرف ان افراد کے لیے ہے جو ایک بہت ہی نایاب بیماری ’فینل کیٹونوریا‘ ہے جس کا شکار افراد اسے استعمال نہیں کر سکتے۔

اس جائزے کا حصہ بننے والی ڈاکٹر ایلیشیا مورٹینسن کا کہنا ہے کہ ’یہ ایسپارٹیم کا سب سے مفصل جائزہ ہے۔‘

اسی بارے میں